ایرانی صدر رئیسی: ہیلی کاپٹر حادثہ موسم، دھند اور دو اضافی سواریوں کے باعث ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اتوار کے روز بتایا گیا ہے کہ مئی میں ایرانی صدر رئیسی اور ان کے ساتھ انتہائی اہم شخصیات کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بارے میں مکمل اور حتمی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ صرف اور صرف موسم کی خرابی اور دھند کے اچانک چھا جانے کی وجہ سے پیش آیا تھا۔

واضح رہے ماہ مئی میں 63 سالہ ابراہیم رئیسیی اور ان کے ساتھ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سمیت سات اہم ذمہ دار ایک ناگہانی حادثے میں مارے گئے تھے۔ جس کے بعد ایران میں ہنگامی طور پر نئے انتخابات کرانے کی ضرورت پیش آئی تھی۔

اس واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ ہیلی کاپٹر موسم کی خرابی کا شکار ہوا تھا، مگر ایرانی فوج نے اس کی باضابطہ اور جامع تحقیقات کرانے کا ذمہ لیا تھا۔

اتوار کے روز انہی تحقیقات کا نتیجہ سامنے لایا گیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ موسم بہار میں عام طور پر دھند کا سامنا رہتا ہے۔ یہ بھی اس حوالے سے گہری دھند کا ایک بڑا منظر تھا ہیلی کاپٹر کے سامنے آگیا اور ایک پہاڑی چوٹی سے ٹکرا کر ہیلی کاپٹر نیچے آگرا ۔

ایرانی فوج نے 19 مئی کے اس حادثے کے فوری بعد بھی یہی بات کہی تھی کہ اس ہیلی کاپٹر حادثے میں کوئی مجرمانہ کوشش سامنے نہیں آئی ہے۔ اب رپورٹ میں کہا گیا ہے خراب موسم کے علاوہ انتہائی چڑھائی کے دوران دو اضافی سواریوں کا ہیلی کاپٹر میں ہونا بھی سبب بنا ہے۔ دو افراد کا ہیلی کاپٹر میں سوار ہونا ہیلی کاپٹر اور صدر دونوں کے پروٹوکول کے خلاف تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں