بھارت کی مشہور زمانہ 'سیون سٹیٹس' جہاں ہر قبائلی شناختوں اور مذہبی و نسلی تضادات سے بھرپور آبادیاں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک ریاست منی پور میں حکام نے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
کرفیو کا یہ نفاذ ہندوؤں اور مسیحیوں کے درمیان ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری تصادم کے تسلسل کے نتیجے میں بدامنی اور پرتشدد واقعات کے بعد منگل کے روز کیا گیا ہے۔
منی پور میں بھارتی حکام کے مطابق ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہے۔ تاہم دوسری بڑی کمیونٹی کرسچنز کے قبائل ہیں۔ جو ہندو بالادستی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس وجہ سے ایک سال سے زیادہ عرصے سے ریاست میں پرتشدد واقعات اور مسلح ٹکراؤ کی کیفیت ہے۔
پچھلے ہفتے میں 11 افراد اسی مسلح تشدد کی بھینٹ چڑھے۔ جس کے بعد منگل کے روز منی پور ریاست کے دارالحکومت ایمپھال میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ کرفیو دارالحکومت کے مضافاتی علاقوں میں بھی نافذ کیا گیا ہے۔
پیر کے روز ریاستی پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ جس کے بعد سیکیورٹی حکام کو ریاستی گورنر کے گھر کو حفاظت دینے کے لیے اقدامات کرنا پڑے۔
پرتشدد واقعات میں شامل لوگوں نے پولیس سے اسلحہ چھین کر فسادات کو اور بڑھاوا دیا۔ اس دوران مختلف واقعات میں کم از کم دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے اور حکام نے مکمل کرفیو کا نفاذ کر دیا۔
احتجاج کرنے والے باغیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ککی قبائل کے باغی آج کل راکٹ بھی فائر کر ہے ہیں۔ پولیس کے مطابق کشیدگی میں یہ نمایاں اضافہ ہے۔ جو کافی عرصے سے ہندوؤں اور مسیحی ککی قبائل کے درمیان جاری تھی۔
دونوں کمیونیٹیز کے درمیان نسل پرستانہ منافرت میں مفادات کا ٹکراؤ ، ملازمتوں کے حصول میں ایک دوسرے پر ترجیح کی کوشش اور ککی قبائل کے ساتھ ریاست کا رویہ اور سلوک بڑے اسباب ہیں۔ یاد رہے منی پور میں نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔ جو پہلے ہی ہندوتوا کے غلبے کی شناخت رکھتی ہے اور دوسری اقلیتوں حتیٰ کہ دلت ہندو بھی خود کو بی جے پی کی وجہ سے مشکلات میں محسوس کرتے ہیں۔
-
بھارتی ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے بعد 130 سے زائد شہروں میں عالمی مظاہرے شروع
بھارتی عدالتِ عظمیٰ میں اس مقدمے کی پیر کو سماعت ہونی ہے
مشرق وسطی -
کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں دو مشتبہ عسکریت پسند ہلاک
علاقے میں مقامی اسبلی کے انتخابات قریب ہیں
بين الاقوامى -
بنگلہ دیش نے بھارت سے برطرف وزیرِ اعظم حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا
حسینہ کی واپسی اور ان کے خلاف قتلِ عام کا مقدمہ چلانے کے لیے عبوری حکومت پر ...
بين الاقوامى