گذشتہ ماہ عراق پر حملے میں داعش کے چار سرکردہ رہنما ہلاک ہو گئے: امریکی فوج

امریکہ اور عراق کا مشترکہ حملہ حالیہ برسوں میں سب سے بڑا حملہ تھا: امریکی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

گذشتہ ماہ ایک حملے کے دوران عراق میں داعش کے چار سرکردہ رہنما ہلاک ہو گئے تھے، یہ بات امریکی فوج نے جمعے کے روز بتائی جو پینٹاگون کا اتنے وسیع پیمانے پر کارروائی کا ایک غیر معمولی عوامی اعتراف تھا۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے ایک ابتدائی بیان میں کہا کہ 29 اگست کے چھاپے کے نتیجے میں داعش کے 15 اہلکار ہلاک ہو گئے۔ جمعہ کے روز سینٹ کام نے کہا کہ چھاپے کے بعد ایک جائزے سے پتا چلا کہ عراق میں ہتھیار سازی کے سربراہ سمیت داعش کے چار سینئر رہنما ہلاک ہو گئے۔

داعش کے ساتھ کام کرنے کے باعث امریکہ نے ابو علی التونیسی کے ٹھکانے سے متعلق معلومات دینے پر 5 ملین ڈالر کا انعام رکھا تھا۔ اس پر ہتھیاروں بنانے کے لیے جدید تربیت فراہم کرنے اور کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کا بھی الزام ہے۔

سینٹ کام نے کہا کہ عراقی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مشترکہ چھاپہ مار کارروائی میں دونوں رہنماؤں کا بھی خاتمہ ہو گیا جو مغربی عراق میں داعش کی کارروائیوں کے ذمہ دار تھے۔ احمد حامد حسین عبدالجلیل العثاوی بھی مارا گیا جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ عراق میں تمام کارروائیوں کا ذمہ دار تھا-

نیویارک ٹائمز نے اطلاع دی ہے کہ صبح سے پہلے کی گئی اس چھاپہ مار کارروائی میں 100 سے زیادہ امریکی سپیشل آپریشنز فورسز اور دیگر دستے شامل تھے جن کے ساتھ عراقی افواج کے ایک چھوٹے دستے نے حصہ لیا۔ ایک امریکی دفاعی اہلکار نے پہلے العربیہ کو بتایا تھا کہ کارروائی کے دوران پانچ امریکی فوجی زخمی ہوئے اور دو کو گرنے سے زخم آئے۔ ایک زخمی اور دوسرے کو مزید علاج کے لیے بھیج دیا گیا۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ امریکہ اور عراق کے درمیان یہ مشترکہ حملہ حالیہ برسوں میں سب سے بڑا حملہ تھا۔

سینٹ کام نے کہا، "اس کاررائی میں رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا اور اس نے داعش کی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے، منظم کرنے اور انجام دینے کی صلاحیت میں خلل پیدا کیا اور انہیں کم کرنے کا کام کیا جو وہ عراقی شہریوں کے ساتھ ساتھ امریکی شہریوں، اتحادیوں، اور شراکت داروں کے خلاف پورے خطے میں اور اس سے باہر کر رہے ہیں۔"

سینٹ کام کے کمانڈر جنرل ایرک کوریلا نے کہا، امریکی فوج داعش کی پائیدار شکست کے لیے پرعزم ہے "جو امریکہ، ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں اور علاقائی استحکام کے لیے مسلسل خطرہ ہے۔"

عراقی وزیرِ اعظم محمد شیعہ السوڈانی نے تہران اور ملک میں ایرانی حمایت یافتہ سیاست دانوں اور ملیشیاؤں کے مسلسل دباؤ کے درمیان ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلانیہ مطالبہ کیا ہے۔ بغداد کی دعوت پر عراق میں امریکہ کے تقریباً 2500 فوجی موجود ہیں تاکہ داعش کا مقابلہ کرنے میں اس کی مدد کی جائے۔ خیال ہے کہ مزید 900 اسی مشن کے حصے کے طور پر شام میں ہیں۔

اس سال کے شروع میں پینٹاگون نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ کے زیرِ قیادت داعش کو شکست دینے پر مرکوز اتحاد کے باعث حالیہ برسوں میں داعش کو شدید نقصان پہنچا جس کے بعد وہ خود کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے کام کر رہی تھی۔

سینٹ کام نے جولائی میں کہا کہ داعش نے 2023 میں کل تعداد میں جتنے حملوں کی ذمہ داری قبول کی، اس سال اس کی رفتار اس سے دوگنا ہو گئی ہے۔

پینٹاگون کے مطابق عراق اور شام میں تقریباً 2500 داعش کے دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں۔ اور جنوری سے جون 2024 تک داعش نے دونوں ممالک میں 153 حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

علیحدہ طور پر سینٹ کام نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ امریکی فوج نے جمعرات کو مشرقی شام میں ایک حملے میں داعش کے ایک نامعلوم دہشت گرد کو ہلاک کر دیا جب وہ اتحادی اور شراکت دار افواج کے خلاف طے شدہ حملے کے لیے ایک دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد نصب کر رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں