نیتن یاہو اور دوسری اہم شخصیات کے مبینہ قتل منصوبے کے شبہ میں اسرائیلی شہری گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی سیکیورٹی سروس نے ایک شہری کو نیتن یاہو کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے شبہ میں حراست میں لے لیا ہے۔ اسرائیلی سیکیورٹی سروس کے مطابق یہ شہری ایران کی طرف سے نیتن یاہو کے قتل کے منصوبے سے متعلق تھا جو اسرائیلی وزیر اعظم اور دیگر اہم اسرائیلی شخصیات کو قتل کرنے کے مشن پر تھا۔

اسرائیلی دعوے کے مطابق یہ شخص بنیادی طور پر ایک تاجر ہے۔ جس نے ایران میں کم از کم ایسے دو اجلاسوں میں شرکت کی ہے جو نیتن یاہو کے قتل کے بارے میں بحث مباحثے کے لیے تھے اور باقی اہم شخصیات کے قتل کے لیے راستے تلاش کرنے کے لیےبلائے گئے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے علاوہ اس مبینہ ایرانی منصوبے میں وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور اسرائیلی حساس ادارے شین بیت کے سربراہ کا قتل بھی شامل تھا ، خیال رہے شین بیت اسرائیل کی اندرونی سلامتی سے متعلق ایجنسی ہے۔

اس مشتبہ شخص کے بارے میں شین بیت اور اسرائیلی پولیس کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسے حراست میں پچھلے ماہ لیا گیا تھا۔ یہ گرفتاری اسرائیل کی لبنانی سرحد پر جاری لڑائی کے سلسلے میں جاری انٹیلی جنس سرگرمیوں کے درمیان ہوئی ہے۔

تاہم پچھلے ہفتے شین بیت نے اس سارے قتل منصوبے کو بے نقاب کر دیا ۔ اس منصوبے سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں لبنانی حزب اللہ بھی شریک تھی تاکہ اسرائیل کے سابق دفاعی حکام کو قتل کیا جاسکے ، جن میں سابق آرمی چیف آف سٹاف اور سابق وزیر دفاع موشے یعلون بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کی طرف سے اس اہم گرفتاری کا اعلان حزب اللہ پر اسرائیلی موساد اور پیجر کمپنی کی مدد سے ممکن بنائے گئے پیجر حملوں کے اگلے دن کیا گیا ہے۔ اسرائیل کے اس حملے کے نتیجے میں کم از کم 20 لبنانی ہلاک ہوئے ہیں اور 450 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی حملے کے بارے میں اسرائیلی حکومت باضابطہ طور پر کچھ نہیں کہہ رہی ہے۔ تاہم سب ظاہر ہے کہ اسرائیل کی موساد نامی ایجنسی کا اس میں ملوث ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں