اسرائیل کے ہاتھوں حزب اللہ کے سربراہ نصر اللہ کی ہلاکت کی مذمت
انتونیو گوتریس کا بیروت واقعے پر "شدید تشویش" کا اظہار، ایران کا حسن نصر اللہ کا کام جاری رکھنے کا عزم
بیروت کے مضافاتی علاقے پر اسرائیلی فضائی حملے میں حزب اللہ کے دیرینہ رہنما حسن نصر اللہ کی ہلاکت کے اعلان کے بعد اسرائیل کے دشمنوں نے ہفتے کے روز انتقام لینے کا عزم ظاہر کیا۔
دوسری جانب متعدد عالمی طاقتوں نے اس قتل کے ممکنہ اثرات کے بارے میں بھی خبردار کیا کیونکہ شرقِ اوسط پر ہمہ گیر جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیرس نے بیروت میں گذشتہ دو دنوں کے دوران ڈرامائی طور پر کشیدہ واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
حماس نے نصر اللہ کے قتل کو "بزدلانہ دہشت گرد کارروائی" قرار دیا۔
حماس نے ایک بیان میں کہا، ہم صہیونی جارحیت اور رہائشی عمارات کو نشانہ بنانے کی اس وحشیانہ کارروائی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
فلسطینی صدر محمود عباس کے دفتر کے ایک بیان کے مطابق انہوں نے نصراللہ اور عام شہریوں کی ہلاکتوں پر لبنان سے "گہری تعزیت" کا اظہار کیا جو "وحشیانہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔"
ایران کی آئی آر این اے نیوز ایجنسی نے نائب صدرِ اول محمد رضا عارف کے حوالے سے بتایا، انہوں نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ نصر اللہ کی موت "ان کی تباہی کا باعث بنے گی۔"
حزب اللہ کو مالیاتی مدد اور اسلحہ فراہم کرنے والی ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا، "ان کا مقدس مقصد القدس الشریف (یروشلم) کی آزادی کی صورت میں پورا ہو گا، انشاء اللہ۔" ترجمان وزارتِ خارجہ ناصر کنعانی نے ایکس پر پوسٹ کیا۔
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حسن نصر اللہ کے جاں بحق ہونے پر پانچ روزہ عوامی سوگ کا اعلان کیا ہے۔
روس کی وزارتِ خارجہ نے کہا، "ہم اسرائیل کی طرف سے کیے گئے تازہ ترین سیاسی قتل کی فیصلہ کن مذمت کرتے ہیں" اور اس پر زور دیا کہ وہ لبنان میں "فوری طور پر فوجی کارروائی بند کر دے۔"
وزارت نے ایک بیان میں مزید کہا کہ اس قتل سے خطے میں ہونے والے "افسوسناک" نتائج و عواقب کی "مکمل ذمہ داری" اسرائیل پر عائد ہو گی۔
حماس کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر فائرنگ کرنے والے ایرانی حمایت یافتہ یمنی باغیوں نے ایک بیان میں کہا ہے، نصر اللہ کی ہلاکت سے اسرائیل کے خلاف "قربانی کے شعلے، جوش کی حرارت اور عزم کی طاقت میں اضافہ ہو گا"۔ ان کے رہنما نے عہد کیا کہ نصراللہ کا خون "رائیگاں نہیں جائے گا۔"
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن جن کا ملک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات تو برقرار رکھتا ہے لیکن جو غزہ میں اس کی جارحیت کا سخت ناقد رہا ہے، نے نصر اللہ کا براہ راست حوالہ دیئے بغیر ایکس پر کہا کہ لبنان کو "نسل کشی" کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے اس قتل کو "بزدلانہ ہدفی قتل" قرار دیا جس سے "علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جن کی مکمل ذمہ داری اسرائیل پر ہے جس کی امریکہ سرپرستی کرتا ہے۔"
اسرائیل کے اتحادیوں کا ملا جلا ردِ عمل
حسبِ توقع امریکی رہنماؤں نے نصراللہ کی موت کا خیرمقدم کیا جن میں صدر جو بائیڈن نے اسے "ان کے کئی متأثرین بشمول ہزاروں امریکیوں، اسرائیلیوں اور لبنانی شہریوں کے لیے انصاف کا اقدام" قرار دیا۔
بائیڈن نے ایک بیان میں مزید کہا، واشنگٹن "ایرانی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں" کے خلاف اسرائیل کے حقِ دفاع کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں امریکی افواج کی "دفاعی پوزیشن" کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
نائب صدر کملا ہیرس نے کہا، نصراللہ "ایک دہشت گرد تھا جس کے ہاتھ پر امریکی خون ہے" اور کہا کہ وہ "ایران اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں مثلاً حزب اللہ، حماس اور حوثیوں کے خلاف اسرائیل کے حقِ دفاع کی ہمیشہ حمایت کریں گی۔"
ایوانِ نمائندگان کے سرکردہ ریپبلکنز نے بھی "کرۂ ارض کے ایک سفاک ترین دہشت گرد" کی طرف سے "خونریزی، جبر اور دہشت گردی کے دور" کے خاتمے کا خیرمقدم کیا۔
کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے نصراللہ کو "ایک دہشت گرد تنظیم کا رہنما قرار دیا جس نے معصوم شہریوں پر حملہ اور انہیں ہلاک کیا جو پورے خطے میں بے پناہ مصائب کی وجہ بنے۔" لیکن انہوں نے تنازعہ میں شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید کام کرنے پر زور دیا اور مزید کہا: "ہم اس نازک وقت کے دوران سکون اور تحمل کی تاکید کرتے ہیں۔"
ارجنٹائن کے صدر جیویر میلی نے ایکس پر اپنے اقتصادی مشیروں کی کونسل کے ایک رکن ڈیوڈ ایپسٹین کا پیغام دوبارہ پوسٹ کیا، "اسرائیل نے عصرِ حاضر کے ایک سب سے بڑے قاتل کو ختم کر دیا جو دیگر کے علاوہ اے آر جی میں بزدلانہ حملوں کا ذمہ دار تھا۔ آج دنیا تھوڑی سی آزاد ہے۔"
اسرائیل کے دوسرے اتحادیوں نے ایک الگ نکتۂ نظر پیش کیا۔
جرمن وزیرِ خارجہ اینالینا بیربوک نے اے آر ڈی ٹیلی ویژن کو بتایا، اس قتل سے "لبنان کے طول و عرض کے لیے عدم استحکام کا خطرہ ہے" جو "کسی بھی طرح سے اسرائیل کی سلامتی کے مفاد میں نہیں ہے۔"
برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے لبنانی وزیر اعظم سے بات کی تھی۔ انہوں نے کہا، "ہم نے خونریزی کے خاتمے کے لیے فوری جنگ بندی کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ لبنانی اور اسرائیلی عوام کے لیے سلامتی اور استحکام بحال کرنے کا واحد راستہ سفارتی حل ہے۔"
فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں نوئل باروٹ نے اسرائیل سے لبنان میں اپنے حملے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ ملک میں کسی بھی زمینی کارروائی کے خلاف ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا، فرانس نے دیگر عناصر بالخصوص حزب اللہ اور ایران سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اضافی عدم استحکام اور علاقائی انتشار کا باعث بننے والی کسی بھی کارروائی سے باز رہیں۔