اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز دعوی کیا ہے کہ جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقے میں حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹرز میں حزب اللہ سربراہ حسن نصراللہ کے ساتھ بیس سے زائد مزید افراد بھی ہلاک کیے گئے ہیں۔ جو مبینہ طور پر حذب اللہ کے اہم ارکان تھے۔
اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق یہ سب افراد مختلف رینکس کے حامل ذمہ داران تھے۔ جو بمباری کے وقت ہیڈ کوارٹرز کے تہہ خانے میں موجود تھے۔ یہ تہہ خانہ ایک سویلین بلڈنگ میں تھا۔
اسرائیلی فوجی بیان میں کہا گیا ہے یہ یہ سب اسرائیلی ریاست کے خلاف جنگی حملوں کی۔منصوبہ بندی کر رہے تھے۔تاہم ان سب کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوجی بیاں کےمطابق ان میں ابراہیم حسین جزی اور سمیر توفیق دیب جو حسن نصراللہ کے قریبی تریں ساتھیوں میں شامل تھے۔ وہ بھی جاں بحق ہو گئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سب افراد روز مرہ کی حزب اللہ سرگرمیوں اور آپریشنز کے لیے نمایاں اہمیت کے حامل تھے۔
خیال رہے حزب اللہ نے اپنے سربراہ کی ہلاکت کی ہفتہ کے روز تصدیق کر دی تھی۔جبکہ ایک اور سینئیر کمانڈر علی کراکی کی ہلاکت کی تصدیق اتورا کے روز کی گئی ہے۔
واضح رہے رواں ماہ کے دوران اسرائیل نے اپنی جنگ کا رخ لبنان کی طرف بھی موڑ دیا ہے۔ اسرائیل نے یہ فیصلہ سرحدی جھڑپوں سے آگے بڑھاتے ہوئے ایک مکمل جنگ کی تیاری کے طور پر زمینی فوج کو بھی لبنان میں داخل ہونے کی تیاری کر رکھی ہے۔
صرف حالیہ چند دنوں میں اسرائیلی فوج کی بد ترین بمباری کی وجہ سے سینکڑوں فلسطینی جاں بحق اور ایک لاکھ سے زیادہ نے بے گھر ہونے کے بعدنقل مکانی کر لی ہے۔
-
حزب اللہ رہنما حسن نصر اللہ کا جسد خاکی برآمد کر لیا گیا: ذرائع
سربراہ کو کھو دینے کا صدمہ پندرہ ایام کے دوران حزب اللہ کے لیے شدید ترین ہے
مشرق وسطی -
عالمی غذائی پروگرام کی طرف سے دس لاکھ لبنانیوں کے لیے ہنگامی غذائی امداد کی ترسیل
حالیہ اسرائیلی بمباری نے ہزاروں نئے لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے
مشرق وسطی -
لبنان: 20 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر، ورلڈ فوڈ پروگرام کا ہنگامی آپریشن شروع
ورلڈ فوڈ پروگرام پناہ گاہوں میں خاندانوں میں کھانے کے لیے تیار راشن، روٹی اور ...
بين الاقوامى