سعودی آرکسٹرا کے لندن شاہکار کنسرٹ کے بعد ٹوکیو آخری منزل کے لیے تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کی میوزک اتھارٹی نے بین الاقوامی سطح پر سعودی ثقافت اور فنون کو فروغ دینےکی مساعی کے تحت برطانوی دارالحکومت لندن کے مرکز میں واقع سینٹرل ہال ویسٹ منسٹر تھیٹر میں "سعودی آرکسٹرا کے شاہکار" کنسرٹ کا انعقاد کیا۔ اس کے بعد سعودی آکسٹرا کی اگلی منزل جاپانی دارالحکومت ٹوکیو ہوگا۔

لندن میں موسیقی کی منفرد تقریب کا آغاز سعودی شاعر بدر بن عبدالمحسن کے لکھے گیت " أنا من هالأرض.. أمي الصحراء .. ‏احتضنتني رمالها .. وارتويت بطهرها ..أطعمتني تمرها .. وفرشت لي ظلالها..أنا من هالأرض اللي ما لعيالها .. غيرها أرض" سے کیا گیا۔ یہ گیت گلو کار محمد عبدہ نے گایا جب کہ اس کے کوئر میں پچاس سے زیادہ مردو اور خواتین نے شرکت کی تھی۔

موسیقی کے لیے راتوں کا انتخاب قومی گیتوں کے لیے الگ الگ کیا۔ اس دوران "سعودیون" نغمہ بھی پیش کیا گیا جس میں مملکت کے شمال، جنوب، مشرق اور مغرب کے متعدد علاقوں کی لوک داستانیں شامل تھیں۔

تقریب کا اختتام "عاشقينك" گانے سے ہوا کیونکہ اسے سعودی پرچم اور سبز رنگ سے سجایا گیا تھا۔ اس موقعے پر پرفارمنس بینڈز نے لوک ثقافتی ورثے میں شرکت کی۔ تقریب میں موسیقی میں مہارت حاصل کرنے والےسعودی طالب علم عبدالمجید خنکارکو موسیقی باڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پال پیسیفکو نے ایوارڈ سے نوازا۔

یہ کنسرٹ ہر سال سعودی میوزک اتھارٹی کے زیر اہتمام سعودی نیشنل آرکسٹرا اور کوئر کے عالمی دوروں کا تسلسل ہے۔ اس نے اپنا پہلا کنسرٹ فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں ہال ڈو شیٹلیٹ میں منعقد کیا تھا۔ اس کے بعد ایک کنسرٹ میکسیکو کے دارالحکومت میکسیکو سٹی میں نیشنل تھیٹرمنعقد کیا گیا۔ اس کے بعد امریکہ کے نیویارک شہر میں منعقد کیا گیا۔

سعودی آرکسٹرا کے شاہکار اقدام کا مقصد عالمی سطح پر سعودی فنون کی موجودگی کو فروغ دینا اور مختلف شکلوں میں فنون لطیفہ اور ثقافت کی حمایت کے لیے مملکت کے عزم کو آگے بڑھانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں