حزب اللہ کے ذرائع شرق الاوسط کو بتایا کہ حسن نصر اللہ کو عارضی طور پر خفیہ مقام پر سپردِ خاک کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ اس حوالے سے کوئی فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا۔
اس سے قبل خبر رساسں ایجنسی اے ایف پی مے حزب اللہ رہنما کی ہلاکت کے بعد گروپ کے قریبی ذریعے نے کہا، "حسن نصراللہ کو عارضی طور پر دفن کر دیا گیا ہے جب تک حالات عوامی طور پر جنازے کی اجازت نہ دیں۔"
ذرائع نے کہا کہ "سوگواران اور ان کی تدفین کی جگہ کو نشانہ بنانے کی اسرائیلی دھمکیوں کے خوف سے" ایک بڑے عوامی جنازے کا انعقاد ناممکن تھا۔
اگر حالات مناسب جنازہ کے لیے سازگار نہ ہوں یا میت کو جہاں چاہیں دفن نہ کر سکیں تو ایسی صورت میں شیعہ مسلم رسومات میں عارضی تدفین کی اجازت ہے۔
ایک لبنانی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حزب اللہ نے لبنان کے اعلیٰ حکام کے ذریعے اسرائیل کے اہم اتحادی امریکہ سے "ضمانت" حاصل کرنے کی کوشش کی کہ اسرائیل کسی عوامی جنازے کو نشانہ نہیں بنائے گا لیکن وہ ناکام رہے۔
حزب اللہ پر اسرائیلی بمباری میں شدت کے درمیان 27 ستمبر کو گروپ کے جنوبی بیروت کے مضبوط مرکز پر ایک بڑا حملہ کیا گیا جس میں نصر اللہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک جنرل کے ہمراہ جاں بحق ہو گئے۔
اسرائیل نے ایرانی حمایت یافتہ گروپ کے تقریباً 20 ارکان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔
نصراللہ کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد بھی ان کا کوئی جانشین نہیں ہے۔
امریکی اور اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نصر اللہ کے کزن اور حزب اللہ کی ایک اہم شخصیت ہاشم صفی الدین جنوبی بیروت پر حالیہ اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ تھے جن کو ان کا ممکنہ جانشین قرار دیا گیا تھا۔