اسرائیل کی طرف سے ہفتوں میں پہلی بار غزہ سے انخلاء کا انتباہ جاری

مزاحمت کاروں کے خلاف "زبردست طاقت" استعمال کرنے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز مکینوں کو وسطی غزہ کا کچھ حصہ خالی کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج علاقے میں حماس کے مزاحمت کاروں کے خلاف "زبردست طاقت" استعمال کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

غزہ سے انخلاء کے لیے ہفتوں میں پہلی بار کہا گیا ہے کیونکہ اس وقت اسرائیلی فوج نے بہت حد تک اپنی توجہ لبنان میں حزب اللہ سے لڑنے پر مرکوز کر رکھی ہے۔

اسرائیلی فوج کے انخلاء کے حکم نامے میں کہا گیا ہے، "حماس اور دہشت گرد تنظیمیں آپ کے علاقے میں اپنی دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کے نتیجے میں فوج ان عناصر کے خلاف بڑی طاقت کے ساتھ کارروائی کرے گی۔" اس کے ساتھ ایک منسلک نقشے میں بلاکس کی فہرست دی گئی ہے جنہیں خالی کروایا جائے گا۔

اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق حماس کے حملے سے لے کر اب تک 1205 افراد ہلاک ہوئے جن میں یرغمالی بھی شامل ہیں جبکہ فلسطین میں دو اعشاریہ چار ملین افراد میں سے تمام اب تک کم از کم ایک بار ضرور بےگھر ہو چکے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں ایک سال کے دوران کم از کم 41,825 فلسطینی لقمۂ اجل بن چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

ایکس پر پوسٹ کیے گئے تازہ ترین حکم نامے کے تحت وسطی غزہ میں نیتسارم راہداری کے قریبی علاقوں کے فلسطینیوں کو انخلا کی تنبیہ کی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج اکثر ان علاقوں میں واپس آئی ہے جہاں اس نے حماس کی سرگرمیوں کی اطلاعات کے جواب میں پہلے کارروائیاں کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں