اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز مکینوں کو وسطی غزہ کا کچھ حصہ خالی کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج علاقے میں حماس کے مزاحمت کاروں کے خلاف "زبردست طاقت" استعمال کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
غزہ سے انخلاء کے لیے ہفتوں میں پہلی بار کہا گیا ہے کیونکہ اس وقت اسرائیلی فوج نے بہت حد تک اپنی توجہ لبنان میں حزب اللہ سے لڑنے پر مرکوز کر رکھی ہے۔
اسرائیلی فوج کے انخلاء کے حکم نامے میں کہا گیا ہے، "حماس اور دہشت گرد تنظیمیں آپ کے علاقے میں اپنی دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کے نتیجے میں فوج ان عناصر کے خلاف بڑی طاقت کے ساتھ کارروائی کرے گی۔" اس کے ساتھ ایک منسلک نقشے میں بلاکس کی فہرست دی گئی ہے جنہیں خالی کروایا جائے گا۔
اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق حماس کے حملے سے لے کر اب تک 1205 افراد ہلاک ہوئے جن میں یرغمالی بھی شامل ہیں جبکہ فلسطین میں دو اعشاریہ چار ملین افراد میں سے تمام اب تک کم از کم ایک بار ضرور بےگھر ہو چکے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں ایک سال کے دوران کم از کم 41,825 فلسطینی لقمۂ اجل بن چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔
ایکس پر پوسٹ کیے گئے تازہ ترین حکم نامے کے تحت وسطی غزہ میں نیتسارم راہداری کے قریبی علاقوں کے فلسطینیوں کو انخلا کی تنبیہ کی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج اکثر ان علاقوں میں واپس آئی ہے جہاں اس نے حماس کی سرگرمیوں کی اطلاعات کے جواب میں پہلے کارروائیاں کی ہیں۔
-
عالمی ادارۂ صحت کی غزہ میں پولیو مہم کے دوسرے مرحلے کی منصوبہ بندی
دوسرا مرحلہ 14 اکتوبر سے شروع کرنے کے لیے اسرائیل کو درخواست بھیج دی گئی
مشرق وسطی -
غزہ پر اسرائیلی بمباری سے 29 ہلاکتیں، اسرائیل پر راکٹ باری کا دوبارہ آغاز
اسرائیلی فوج کی غزہ پر جمعہ کے روز بمباری کے دوران 29 فلسطینی شہری جان سے گئے۔ ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب، مصر کا لبنان اور غزہ میں فوری جنگ بندی پر زور
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور مصری ہم منصب ڈاکٹر بدر العبد العاطی نے ...
بين الاقوامى