اسرائیلی فوج نے اتوار کو کہا کہ اس نے سات اکتوبر کو حماس کے حملے کی برسی سے پہلے جنوبی برادریوں اور غزہ سے متصل علاقوں کے دفاع کے لیے مزید فوجی تعینات کیے ہیں۔
فوج نے کہا، "آئی ڈی ایف کے غزہ ڈویژن کو کئی دستوں کے ساتھ تقویت ملی ہے اور دونوں برادریوں اور سرحدی علاقے کے دفاع کے لیے افواج تعینات ہیں۔"
نیز بیان میں کہا گیا، "فوجی مقامی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر خطے کے دفاع کے لیے پوری طرح مسلح ہیں۔"
فوج نے کہا، غزہ کے اندر تین ڈویژن "دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو توڑنے اور حماس کی صلاحیتوں کو کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔"
کمانڈنگ آفیسر میجر جنرل یارون فنکل مین کے حوالے سے بتایا گیا، "جنوبی کمان آئندہ دنوں کے لیے چوکسی اور تیاری کی بلند ترین سطح پر ہے۔"
اس سے قبل فوج نے کہا تھا کہ اس کی افواج نے وسطی غزہ میں جبالیہ کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا جہاں حماس اپنی کارروائی کی صلاحیتوں کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
گذشتہ سال سات اکتوبر کا حملہ حماس کی جانب سے مہلک ترین حملوں میں سے ایک تھا۔
عیدِ خیام کی یہودی تعطیل کے اختتام پر حماس کے مزاحمت کاروں نے زمینی، فضائی اور سمندری راستے سے حملہ کیا تھا۔
سرکاری اسرائیلی اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی تعداد کے مطابق ایک سال بعد اسرائیلی جانب سے اس حملے کے ہلاک شدگان کی تصدیق شدہ تعداد 1,205 تک پہنچ گئی ہے جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ ان میں اسیری میں ہلاک شدہ یرغمالی بھی شامل ہیں۔
اس کے جواب میں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک کم از کم 41,870 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔
ان اعداد و شمار کو اقوامِ متحدہ نے قابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔
-
اسرائیل کی طرف سے ہفتوں میں پہلی بار غزہ سے انخلاء کا انتباہ جاری
مزاحمت کاروں کے خلاف "زبردست طاقت" استعمال کرنے کی تیاری
مشرق وسطی -
غزہ کی مسجد اور سکول پر اسرائیلی فضائی حملہ: کم از کم 24 افراد ہلاک
مسجد اور سکول میں حماس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تھا: اسرائیلی فوج کا الزام
مشرق وسطی -
غزہ جنگ میں فلسطینی اموات 41,870 ہو گئیں: وزارتِ صحت
زخمیوں کی تعداد 97,000 سے تجاوز کر گئی
مشرق وسطی