ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اسرائیل پر میزائل حملے کے بعد پاسداران انقلاب کے میزائلوں کے شعبے کے سربراہ کمانڈر کو اعزاز سے نوازنے کے لیے تمغہ دیا ہے۔ سپریم لیڈر نے یہ تمغہ پاسداران کمانڈر کے سینے پر اتوار کے روز سجایا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' نے سپریم لیڈر کی ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سپریم لیڈر نے اسلامی جمہوریہ کے دشمن اسرائیل پر میزائل حملوں کے لیے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے ایرو سپیس کے شعبے کے کمانڈر کو اعزاز عطا کیا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی طرف سے ایرو سپیس فورس کے کمانڈر جنرل امیر علی حاجی زادہ کو اس کامیابی پر اعززا سے نوازنے کا اعلان کا ایران کی قومی زبان فارسی میں کیا گیا ہے۔
سپریم لیڈر کی ویب سائٹ کے مطابق یہ اعزاز شاندار 'ایماندار وعدہ' آپریشن کی وجہ سے عطا کیا گیا ہے۔ 62 سالہ حاجی زادہ 2009 سے قائم' ایر سپیس ونگ ' کے مسلسل کمانڈر چلے آرہے ہیں۔
منگل کے روز 30 ستمبر کو ایران نے اسرائیلی فضائی حملے کے جواب میں اسرائیل پر 200 کے قریب میزائل داغے تھے۔ تاکہ بیروت میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اور ایرانی پاسداران کے ذمہ داروں سمیت کئی اہم کمانڈروں کی ہلاکتوں کا جواب دے سکے۔
اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایرانی پاسداران کے ایک اہم کمانڈرجنرل عباس نیلفروشان کی بھی ہلاکت ہوئی تھی۔ جبکہ حزب اللہ کی اعلی کمان کے کئی ذمہ دار ہلاک اور ہیڈ کوارٹر تباہ ہو گیا۔
اسرائیل نے اس سے قبل اپریل میں دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر مہلک حملہ کیا تھا۔ جس کا بدلہ لینے کے لیے اپریل میں ہی ایران نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔
اب 6 ماہ کے عرصے کے بعد یہ ایران کا اسرائیل پر دوسرا براہ راست حملہ تھا، جسے بیروت پر حالیہ حملے کا جواب کہا جاتا ہے۔ اس میں ایران نے اسرائیل پر 200 میزائل فائر کیے ہیں۔ اس میزائل حملے نے اسرائیل میں ہر سطح پر تھر تھراہٹ پیدا کر دی اور لاکھوں اسرائیلیوں کو زیر زمین پناہ گاہوں میں چھپنا پڑا تھا۔