ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعرات کے روز قطر پہنچے ہیں۔ جہاں انہوں نے اپنے قطری ہم منصب سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں خطے کی صورتحال اور ایران پر ممکنہ اسرائیلی حملے کے تناظر میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
واضح رہے قطر ایسا خلیجی ملک ہے جس نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں جنگ بندی کے لیے نمایاں کوششیں کی ہیں اور وہ اہم ترین ثالث ملکوں میں سے ایک ہے۔ ان دنوں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے لیے بھی قطر کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور اس نے اس سلسلے میں فریقین سے جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اسرائیل نے لبنان میں پچھلے ماہ سے حملوں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ ان حملوں میں تیزی کا آغاز بیروت پر حملوں سے ہوا جس میں حزب اللہ سربراہ حسن نصراللہ سمیت کئی اہم کمانڈر ہلاک ہوئے اور شہر کے بڑے حصے میں تباہی ہوئی۔ لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔
اب اسرائیلی فوج لبنان پر زمینی حملے کر رہی ہے۔ جبکہ ایران کو اس نے دھمکی دی ہے کہ یکم اکتوبر کو اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے کا بدترین جواب دیا جائے گا۔ جو ایران کے لیے ہلاکت خیز اور حیران کن رہے گا۔ نیتن یاہو بھی اس بارے میں صدر جوبائیڈن سے فون پر تفصیلی مشاورت کر چکے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے قطر پہنچنے کے بعد قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے باہم اہم مشاورت کی۔ اس امر کا اظہار قطری وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا 'یہ تمام ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے پر تباہی مسلط کیے جانے کو روکنے کے لیے اپنی کوششوں کو بڑھائے۔ غزہ میں نسل کشی روکے اور لبنان میں جارحیت کا راستہ بند کرے۔' یہ بات انہوں نے مذاکرات کے بعد کہی ہے۔
قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ خطے میں امن و سلامتی کو بڑھانے کے لیے اپنی کوششوں کو ہر ممکن حد تک بڑھائیں گے اور یہ کوششیں علاقائی کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بھی کی جائے گی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کی ایران کے لیے دھمکی کے بعد قطر کا دورہ کیا ہے۔
-
کیا اسرائیل آج ایران پر’مہلک اور حیران کن‘ حملہ کرنے کا فیصلہ کرے گا؟
دنیا اس ماہ کے آغاز میں ایرانی میزائل حملے پر اسرائیلی ردعمل کا انتظار کر رہی ہے ...
مشرق وسطی -
ایران کشیدگی روکنے کے لیے سعودی عرب کی سفارت کاری کا سہارا لے رہا ہے:ماہرین
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم اور ایرانی وزیر خارجہ عباس ...
بين الاقوامى -
بیروت میں پیجردھماکے میں زخمی ایرانی سفیرمنظرعام پر آگئے
لبنان میں 17 ستمبر کو ہونے والے پیجر بم دھماکوں کے نتیجے میں ان کی ایک آنکھ کے ...
مشرق وسطی