ایران میں خاتون مزدور کارکن کی سزائے موت کالعدم قرار

کیس دوبارہ سماعت کے لیے بھیج دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مقامی میڈیا نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ ایران کی اعلیٰ ترین عدالت نے مزدوروں کے حقوق کی ایک خاتون کارکن کی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ خاتون پر ایک کالعدم کرد گروپ سے تعلق کا الزام تھا۔

اصلاحی روزنامہ شرق نے خاتون کے وکیل عامر رئیسان کے حوالے سے بتایا، "عدالتِ عظمیٰ نے میری مؤکلہ محترمہ شریفہ محمدی کے خلاف فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ کیس دوبارہ سماعت کے لیے بھیج دیا گیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق چین کے بعد ایران میں سالانہ سب سے زیادہ تعداد میں پھانسی دی جاتی ہے۔

حقوق کے گروپوں کے مطابق 45 سالہ محمدی کو جولائی کے اوائل میں شمالی شہر رشت میں گرفتاری کے بعد سزائے موت سنائی گئی تھی۔

اس کے بعد سے ان پر کوملہ پارٹی کی رکن ہونے کا الزام لگایا گیا ہے جو عراق میں مقیم ایک جلاوطن کرد علیحدگی پسند گروپ ہے اور تہران اسے دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔

ستمبر 2022 میں کرد خاتون مہسا امینی کی ایران کی تحویل میں ہونے والی ہلاکت کے بعد تہران نے عراق میں کرد گروپوں پر مہینوں تک طویل ملک گیر عوامی مظاہروں کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔

22 سالہ ایرانی کرد مہسا امینی اسلامی جمہوریہ کے خواتین کے لباس کے سخت ضابطہ کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتاری کے بعد زیرِ حراست انتقال کر گئی تھیں۔

اسلامی جمہوریہ دہشت گردی، قتل اور منشیات کی سمگلنگ کے ساتھ ساتھ عصمت دری اور جنسی حملوں سمیت بڑے جرائم کے لیے سزائے موت کا استعمال کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں