غزہ میں کام کرنے والی فلسطینی وزارت صحت نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ شمالی غزہ کے تین ہسپتالوں میں بنیادی ضروریات ادویات سمیت ناپید ہو چکی ہیں اور ان ہسپتالوں کا کام کسی بھی وقت مکمل طور پر معطل ہو سکتا ہے کیونکہ علاقے کو اسرائیلی فوج نے مسلسل بدترین محاصرے میں رکھا ہوا ہے۔
وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج کا شمالی غزہ میں یہ محاصرہ تقریباً دو ہفتے سے جاری ہے۔ اس دوران کھانے پینے کی اشیاء کی نقل و حرکت سے لے کر ادویات کی ترسیل پر اسرائیلی فوج نے قدغنیں لا رکھی ہیں۔ نتیجتاً غزہ کے تین ہسپتالوں نے اپنی بندش کے حوالے سے خبردار کر دیا ہے۔
العودہ ہسپتال ، کمال عدوان ہسپتال اور انڈونیشن ہسپتال کے ڈاکٹروں کی طرف سے اسرائیلی فوج کے سامنے اس بات سے انکار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مریضوں اور ہسپتالوں کو چھوڑ کر نکل جائیں۔ یاد رہے 12 دن پہلے اسرائیل نے شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں ایک بڑے آپریشن کا ایک بار پھر آغاز کیا تھا۔
کمال العدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ نے کہا ہے کہ ہم بین الاقوامی برادری ، صلیب احمر اور عالمی ادارہ صحت کو پکار کار کر کہہ رہے ہیں کہ وہ غزہ کے جنگ زدہ لوگوں کے لیے راہداریاں کھلوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ تاکہ ہسپتالوں میں علاج معالجے کا نظام چل سکے۔ نیز ہسپتالوں کے لیے ایندھن، آلات اور طب سے جڑے وفود کو ہسپتالوں میں آنے کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ہسپتالوں کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء کے حوالے سے غیرمعمولی طور پر دقتوں کا سامنا ہے۔ اس لیے بھی ضروری ہے کہ راہداریاں کھلوانے میں مذکورہ بالا ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ کمال العدوان ہسپتال میں 300 کی تعداد میں طبی عملے کے ارکان کام کرتے ہیں۔ لیکن ہم ان میں سے کسی کو بھی ہسپتال میں کھانے کی سہولت نہیں دے سکتے کہ ہسپتال انتظامیہ تک کھانے کی رسائی ناممکن ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جبالیہ میں اسرائیلی فوج کی بدترین بمباری کے نتیجے میں مسلسل پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ جبالیہ کو خالی کرانے کا بھی اسرائیلی فوج حکم دے رہی ہے کہ فلسطینی عوام اپنے گھروں اور علاقے کو چھوڑ کر نکل جائیں۔
وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری سے بدھ کے روز کم از کم 13 فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ جبکہ پچھلے 24 گھنٹوں کے دروان فلسطینیوں کے قتل ہونے کی تعداد 65 ہے۔
خیال رہے تقریباً حالیہ دو ہفتوں کے دوران 350 فلسطینی جبالیہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں۔ جبالیہ اس وقت اسرائیلی بمباری کا بدترین نشانہ ہے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس علاقے میں حماس کے مجاہدین اپنے آپ کو دوبارہ منظم کر رہے ہیں۔
-
غزہ جنگ میں فلسطینی اموات 42,409 ہو گئیں: وزارتِ صحت
حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت نے بدھ کو بتایا کہ غزہ میں اسرائیل-حماس جنگ ...
مشرق وسطی -
انروا کی غزہ میں امدادی کارروائیاں خاتمے کے ’بہت قریب‘ہیں: لازارینی
’’موسمِ سرما کے ساتھ قحط یا شدید غذائی قلت لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کرے گی‘‘
مشرق وسطی -
غزہ میں جنگ بندی کی جائے ، جنگ کو جاری رکھنا خطرے کا باعث ہوگا : سابق اسرائیلی وزیراعظم
اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے غزہ میں جنگ کے ایک سال کے مکمل ہونے کے ...
مشرق وسطی