عراقی جنگی طیاروں نے بمباری کر کے داعش کے ایک سینیئر رہنما سمیت چارجنگجوؤں کو ہلاک کر دیا ہے ۔ امریکی فوج نے اس کارروائی کا جمعہ کے روز اعلان کیا ہے۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یہ بمباری امریکی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کے انٹیلی جنس حکام کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پرکی گئی ۔
امریکہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ عراقی سیکیورٹی فورسز نے یہ کارروائی 14 اکتوبر کو ایک متعین ہدف کو نشانہ بناتے ہوئے کی ہے۔ جس کے نتیجے میں چار داعشی ہلاک ہو گئے۔ ان میں ایک سینیئر رہنما بھی شامل تھا۔ سینٹ کام نے یہ بات سوشل میڈیا پر بتائی ہے۔
Iraqi Security Forces, Partnered With CJTF-OIR, Conducted Targeted Strike that Killed ISIS Senior Leader pic.twitter.com/la04r3nbKT
— U.S. Central Command (@CENTCOM) October 18, 2024
سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائی عراقی فورسز نے اس لیے کی ہے کہ داعش نیٹ ورک کا عراق سے خاتمہ کیا جا سکے ۔ بتایا گیا ہے کہ داعش کا ہلاک کیے جانے والا رہنما شمالی عراق میں سب سے سینیئر رہنما تھا۔ اس کی شناخت شہادہ علاوی صالح علائیوی البجاری کے طور پر کی گئی ہے۔
عراق کی جوائنٹ آپریشنز کمانڈ اس سے پہلے بتا چکی تھی کہ ایف 16 طیارے 14 اکتوبر کی بمباری میں استعمال کیے گئے ، یہ کارروائی کرکوک صوبے میں کی گئی۔
یہ کارروائی ماہ اگست کے اواخر میں امریکی و عراقی جوائنٹ فورسز کی مشترکہ بمباری کے بعد سامنے آئی ہے۔ اگست میں کی گئی کارروائی میں سینٹ کام کے مطابق داعش کے 14 رکن مارے گئے تھے۔ ان میں چار داعش رہنما تھے۔
واضح رہے امریکہ کے عراق میں فوجیوں کی تعداد 2500 ہے۔ جبکہ شام میں 900 کی تعداد میں فوجی موجود ہیں۔ ابھی امریکی فوج کے قیام کا ارادہ ستممبر 2026 تک کا ہے۔ تاہم بعد ازاں اس میں تبدیلی بھی لائی جا سکتی ہے۔