' انروا ' پر پابندی کے بعد اقوام متحدہ کے انسانی حقوق نمائندے پر اسرائیلی غم و غصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل نے اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی ' انروا ' پر پابندی لگانے کے بعد اس عالمی ادارے کے انسانی حقوق کمیشن کو بھی اپنے الزامات کے نشانے پر رکھ لیا ہے۔ اسرائیل نے انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسیسکا البانیز کو اپنے مینڈیٹ کے غلط استعمال کا مرتکب قرار دیا ہے۔

اسرائیل کے جنیوا میں مشن نے یہ الزام بدھ کے روز لگایا ہے۔ اسرائیلی مشن کے مطابق خصوصی نمائندہ اسرائیل کے خلاف اپنی نفرت کو انسانی حقوق کے ذکر کے کور میں چھپا رہی ہیں۔

واضح رہے اسرائیل جسے اس کے بقول غزہ میں حماس کے خلاف طویل بمباری اور بیروت میں حزب اللہ کی قیادت پر بمباری سے خود کو کافی کامیاب سمجھ رہا ہے وہ اقوام متحدہ کے ادارے کو بھی نشانے پر رکھے ہوئے ہے۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت یو این کے مختلف شعبوں کے سربراہان کو بھی اسرائیلی غم و غصے کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔

یو این کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطین نے اپنے اسی موقف کا اعادہ کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کی کوشش ہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کو بالکل صاف کر دے۔

اقوام متحدہ کی نمائندہ نے کہا ' سات اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری ہے ۔ اس کی اس جارحیت کے پیچھے طویل مدتی، بین الاقوامی اور منظم نوعیت کی طے کردہ نقل مکانی بھی شامل ہے۔

اس بارے میں اسرائیلی مشن نے کہا' خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق کی اسرائیل کے خلاف نفرت بھری ہے۔ یہ سمجھتی ہیں کہ اسرائیلی ریاست کے وجود کی کوئی تاریخی وجوہات نہیں ہیں۔ نہ ہی اسرائیل کو دفاع کا حق حاصل ہے۔ نہ اپنے عوام کے دفاع کا حق ہے۔ یہ سب کچھ ان کی اسرائیل کے خلاف چھپی نفرت کا اظہار ہے۔

انسانی حقوق کی یہ خصوصی نمائندہ فرانسسکا ایک سیاسی کارکن سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ جو امتیازی طور پر اسرائیل کے خلاف اپنے مینڈیٹ کا استعمال کر رہی ہے۔

اسرائیل کے جنیوا میں مشن نے مزید کہا ' وہ مسلسل یہود دشمنی کر رہی ہے اور دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ نیز بین الاقوامی قانون کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ خود اقوام متحدہ کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہی ہیں۔

خیال رہے اقوم متحدہ کی خصوصی نمائندہ مسلسل اسرئیلی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سخت تنقید کرتی آئی ہیں۔ اس ایک سال سے زائد کی غزہ جنگ کے دوران اب تک صرف غزہ میں 43000 ہزار سے زائد فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ زخمی فلسطینیوں کی تعداد ایک لاکھ سے اوپر جا چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں