جوہری مسئلے کے حل کے لیے سفارت کاری کا "محدود" موقع ہے: ایران
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے جوہری پروگرام کے مسئلے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کا موقع موجود ہے، لیکن یہ "محدود" ہے۔
عباس عراقچی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر رافیل گروسی کے ایران کے دورے کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ "اب بھی سفارت کاری کا موقع موجود ہے، حالانکہ یہ موقع بہت زیادہ نہیں ہے"۔
جمعے کے روز گروسی نے ایران میں دو بڑے جوہری مقامات کا دورہ کیا، جب کہ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے زور دیا کہ وہ اپنے ملک کے جوہری پروگرام کے حوالے سے "کسی قسم کے شکوک و شبہات یا ابہام" کو دور کرنا چاہتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے کے ڈائریکٹر کے ساتھ تہران میں ہونے والی بات چیت کو ڈونلڈ ٹرمپ کے اگلے جنوری میں وائٹ ہاؤس واپس آنے سے پہلے سفارت کاری کے آخری مواقع میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ ایرانی جوہری فائل "آنے والے سال میں حساس اور پیچیدہ ہوگی، لیکن ہم تمام حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں"۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اور ادارے کے اندر مغربی ممالک کے ساتھ اپنے تنازعہ میں "تصادم یا تعاون کے لیے تیار ہے"۔
سنہ 2017ء اور 2021ء کے درمیان اپنی پہلی مدت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی پر عمل کیا اور اس پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔انہیں بعد میں جو بائیڈن انتظامیہ نے برقرار رکھا۔ 2018ء میں ٹرمپ نے ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری کا اعلان کیا۔ تہران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان 2015ء میں سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔ جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے اور ان کے پرامن رہنے کو یقینی بنانے کے بدلے ایران پر سے پابندیاں اٹھانے کی اجازت دی گئی تھی۔
تہران اس بات کی تردید کرتا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کے فوجی عزائم ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کا مقصد شہری ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ تہران خاص طور پر توانائی کے شعبے میں جوہری پروگرام رکھنے کے اپنے حق کا دفاع کرتا ہے۔ معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری کے جواب میں تہران نے معاہدے کے تحت اپنی زیادہ تر ذمہ داریوں سے بتدریج پیچھے ہٹنا شروع کیا اور کئی ایسے اقدامات کیے جس سے اس کے جوہری پروگرام کو نمایاں طور پر بڑھنے اور وسعت دینے کا موقع ملا۔ ان اقدامات میں سب سے نمایاں یورینیم کی افزودگی کی سطح کو 3.67 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد تک پہنچانا ہے جو کہ ایٹمی معاہدے کے ذریعے طے کی گئی حد ہے جو کہ ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے لیے درکار 90 فیصد کے قریب ہے۔
گروسی کا دورہ اس حساس مسودہ قرارداد سے پہلے آیا ہے جسے لندن، برلن اور پیرس اس ماہ کے دوران اقوام متحدہ کی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔
عراقچی نے ہفتے کے روز خبردار کیا کہ اگر ہمارے خلاف کوئی قرارداد منظور کی گئی تو ایران اس کے بدلے میں اقدامات کرے گا اور ہم اپنے جوہری پروگرام سے متعلق نئے اقدامات کریں گے جو یقیناً مغرب کو پسند نہیں ہوں گے۔
ایک اور تناظر میں عراقچی نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی کہ اقوام متحدہ میں تہران کے ایلچی اور امریکی ارب پتی ایلون مسک کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔
عراقچی نے کہا کہ "یہ (ملاقات) امریکی میڈیا کی من گھڑت کہانی ہے اور اس کے پیچھے محرکات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے"۔
نیویارک ٹائمز نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ ایلون مسک جو کہ امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ہیں نے پیر کو اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر سے ملاقات کی تھی۔
عراقچی نے کہا کہ "میری رائے میں امریکی میڈیا کی طرف سے ایلون مسک اور ایرانی نمائندے کے درمیان ہونے والی ملاقات کو من گھڑت قرار دینا پانیوں کو جانچنے کی ایک شکل ہے کہ آیا اس طرح کے قدم کا کوئی موقع ہے"۔