جنگ بندی قرارداد ویٹو کرنا ثابت کرتا ہے امریکہ غزہ جنگ اور نسل کشی کا براہ راست ذمہ دار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے قرار دیا ہے کہ' امریکہ نے سلامتی کونسل میں غزہ کی جنگ بندی قرارداد کو ویٹو کر کے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ امریکہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ اور فلسطینیوں کی نسل کشی کا براہ راست ذمہ دار ہے۔'

امریکہ نے بدھ کے روز اس قرارداد کو ویٹو کیا ہے جس میں غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

حماس کا یہ بیان امریکی ویٹو کے ذریعے غزہ میں جنگ رکوانے کی ایک اور کوشش کو ناکام بنانے کے بعد رد عمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔

اس غزہ جنگ میں اب تک لگ بھگ 70 فیصد فلسطینی بچوں اور عورتوں سمیت 44000 ہزار فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج قتل کر چکی ہے جبکہ 104092 سے زائد زخمی کر چکی ہے۔ پوری غزہ کی پٹی اسرائیلی فوج کی مسلسل بمباری نے ملبے کا ڈھیر بنا دی ہے جبکہ 23 لاکھ کے قریب فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔

تاہم امریکہ نے ایک بار پھر جنگ روکنے کی قرارداد کو سلامتی کونسل میں ویٹو کر دیا ہے۔

حماس کے جاری کردہ ردعمل میں مزید کہا گیا ہے ' اسرائیل کی غزہ میں جنگ ایک مجرمانہ جارحیت ہے۔ جس میں بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ عورتوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ شہری زندگی کو غزہ میں تباہ کر دیا گیا ہے۔

اس لیے جنگ بندی قرارداد کو ویٹو کر کے امریکہ بھی نسل کشی ، نسلی صفائی اور اسرائیلی قبضے کا براہ راست ذمہ دار ہے۔ '

اقوام متحدہ میں فلسطینی نمائندے ماجد بامیہ نے بھی امریکی ویٹو پر اپنے رد عمل میں کہا ' جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔' انہوں نے یہ جملہ ایک سے زائد بار دہرایا ہے۔ جیسے انہیں امریکی مذمت کے لیے لفظ نہ مل رہے ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں