غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع بیت لاہیا میں کمال عدوان ہسپتال کے اطراف اسرائیلی جنگی طیاروں کی بم باری کے نتیجے میں دو فلسطینی جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔ طبی ذرائع کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے آج ہفتے کی دوپہر ہسپتال کے شمالی دروازے پر موجود فلسطینیوں کے مجمع کو نشانہ بنایا۔ حملے میں 12 طبی کارکنان زخمی ہو گئے، بجلی کے جنریٹر نے کام چھوڑ دیا اور آکسیجن اور پانی کی فراہمی رک گئی۔
ذرائع نے واضح کیا کہ ابھی تک ہزاروں افراد ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی مسلسل بم باری کے سبب ایمبولینس کا عملہ یا امدادی کارکنان ان افراد تک نہیں پہنچ سکتے۔
اس سے چند گھنٹے قبل غزہ میں وزارت صحت نے خبردار کیا تھا کہ غزہ کی پٹی کے تمام ہسپتال آئندہ 48 گھنٹوں میں کام کرنا چھوڑ دیں گے یا اپنی خدمات میں کمی کر دیں گے کیوں کہ اسرائیلی حکام ایندھن کے داخلے کے آڑے آ گئے ہیں۔
کل جمعے کے روز X پلیٹ فارم پر جاری بیان میں وزارت کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ پٹی کے شمال میں طبی عملوں اور ٹیموں سے انتقام لے رہی ہے۔ مزید یہ کہ اسرائیل نے کمال عدوان ہسپتال کی املاک تباہ کر دیں اور ہسپتال کی عمارت کے اندر طبی عملے پر فائرنگ کی۔
گذشتہ ماہ اکتوبر کے آغاز سے اسرائیل نے تباہ حال غزہ کی پٹی کے شمال میں جارحیت کا آغاز کیا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کی از سر نو صف بندی روکنے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے۔
غزہ کی پٹی کے شمال میں مقامی آبادی نے اسرائیل کی جانب سے جبری ہجرات کرانے کے ارادوں پر اپنے اندیشوں کا اظہار کیا ہے۔
-
عالمی عدالت سے وارنٹ، غزہ کے باشندوں کو اسرائیلی حملے تھمنے کی کم ہی امید
اسرائیل نے وارنٹ گرفتاری اور عدالتی فیصلہ مسترد کر دیا، غزہ پر حملے بدستور جاری
مشرق وسطی -
اسرائیلی حملوں میں 19 افراد ہلاک ہو گئے: شہری دفاع ایجنسی غزہ
مختلف مقامات پر فضائی اور ٹینکوں کے حملے، کئی زخمی
مشرق وسطی -
غزہ میں نسل کشی: اب تک 44176 فلسطینی قتل کیے جا چکے، 104473 زخمی
اسرائیل نے 13 ماہ سے زیادہ عرصے پر محیط غزہ جنگ کے دوران اب تک 44176 فلسطینیوں کو ...
مشرق وسطی