آج ہفتے کی صبح مقامی وقت کے مطابق چار بجے اسرائیل نے ایک بار پھر لبنانی دار الحکومت کے وسطی علاقے پر حملہ کیا۔ اسرائیلی فوج نے البسطہ الفوقا کے علاقے پر شدید بم باری کی۔ شہری دفاع کے محکمے کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے۔
دوسری جانب سرکاری نیشنل میڈیا ایجنسی نے بتایا ہے کہ اسرائیلی بم باری میں لوگوں کی بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہو گئی جب کہ ایک 8 منزلہ عمارت تباہ ہو گئی۔ ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے بنکر تباہ کرنے والے بموں کا ستعمال کیا جس کے سبب گہرا گڑھا پڑ گیا۔ حملے کے کئی گھنٹوں بعد بھی بیروت میں بارود کی بو پھیلی رہی۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں کم از کم 4 بم استعمال کیے گئے۔
اسرائیل نے کون سے بم استعمال کیے ؟
سیکورٹی امور سے متعلق سرائیلی ویب سائٹ "انٹیلی ٹائمز" کے مطابق البسطہ الفوقا کے علاقے میں MK-84 بموں کا استعمال کیا گیا جو اسرائیلی فضائیہ کے پاس موجود سب سے زیادہ تباہ کن ہتھیاروں میں سے ہے۔
یہ بم بنکروں کو ملبے کا ڈھیر بنانے اور اہداف کو تباہ کن حد تک درست طور پر نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بم 2000 پونڈ وزنی ہوتا ہے اور 400 کلو گرام دھماکا خیز مواد پر مشتمل ہوتا ہے جو اس کے مجموعی وزن کا 45% بنتا ہے۔
اس بم کے پھٹنے پر دباؤ کی ایک شدید لہر پیدا ہوتی ہے جس کی رفتار آواز کی رفتار سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ لہر انسانی جسم کے بخیے ادھیڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 350 میٹر کے قطر کے اندر عمارتوں کو مکمل طور پر زمین بوس کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بم دھماکے کی جگہ پر 15 تک چوڑا اور 10 میٹر تک گہرا گڑھا ڈال سکتا ہے۔
یہ بم پہلی مرتبہ ویتنام جنگ کے دوران میں سامنے آیا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے یہ اس سے قبل غزہ میں کارروائیوں کے دوران میں استعمال ہو چکا ہے۔
چوتھی مرتبہ
یہ پہلا موقع نہیں تھا جب اسرائیل نے لبنانی دار الحکومت میں بم باری کی۔ چند روز کے اندر یہ اپنی نوعیت کا چوتھا حملہ تھا۔
-
بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی حملے
کئی افراد ہلاک اور زخمی
مشرق وسطی -
اسرائیل نے بیروت کے مضافاتی علاقے پر نئے حملے کردیے
جنوبی لبنان پر حملے کرنے کے بعد اسرائیل نے جمعہ کی شام بیروت کے جنوبی مضافاتی ...
مشرق وسطی -
بیروت کے علاقے البسطہ الفوقا پر بمباری، 12 افراد جاں بحق، 33 زخمی
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہفتے کی صبح اسرائیلی فورسز نے البسطہ الفوقا کے علاقے ...
مشرق وسطی