یہودی آباد کاروں کو نقص امن قانون کے تحت نظر بندی سے استثنا مل گیا
مغربی کنارا: پر تشدد کارروائیوں کی حوصلہ افزائی
اسرائیلی وزارت دفاع نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کیے گئے یہودیوں کو نظر بندی کے قانون سے استثنا ہو گا اور انہیں اس قانون کے تحت انتظامی حراست میں نہیں لیا جائے گا۔
اس امر کا فیصلہ اسرائیلی حکومت نے پچھلے ماہ کیا تھا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر پائی جانے والی تشویش اور بعض ملکوں کی طرف سے یہودی آباد کاروں اسی سلسلے پابندیاں لگائے جانے کے باوجود اسرائیل کو یہودی آباد کاروں کو قانون سے بالاتر قرار دینا ایک غیر معمولی اور جارحانہ سیاسی و عسکری فیصلہ ہے۔
واضح رہے اسرائیلی حکومت مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو نظر بندی کے اسی قانون کے تحت کئی کئی سال نظر بند رکھتی ہے اور ان کی نظر بندی کی مدت میں توسیع کرتی رہتی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کی طرف سے یہودی آباد کاروں کے ساتھ ماورائے قانون سٹیٹس دیے جانے پر تنقید کی ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدام مغربی کنارے میں انتہا پسند یہودیوں کی جارحانہ اور پر تشدد کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ نیز یہ ایک خصوصی اور قانون سے ماورا برتاؤ ہے۔ گویا ان یہودی آبادکاروں کو فلسطینیوں کے خلاف کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے کہا ہے' یہ یہ نامناسب تھا کہ یہودی آباد کاروں کو انتظامی حراست میں لیا جائے اور انہیں نظر بند کیا جائے جبکہ وہ فلسطینیوں کے دہشت گردانہ حملوں اور بین الاقوامی پابندیوں کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔'
خیال رہے امریکہ اور یورپی یونین دونوں نے کچھ یہودی آباد کاروں پر پابندیاں لگائی ہیں۔ جبکہ یورپی یونین کے خارجہ پالیسی سربراہ جوزپ بوریل کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان تشدد پسند یہودی آباد کاروں کے ان حامیوں پر بھی پابندیاں لگائی جائیں جو اسرائیلی حکومت میں ہیں اور ان کی پر تشدد کارروائیوں کے حامی ہے۔
مغربی کنارے میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ' پیس نو' اب امن نے کہا ہے کہ یہ قانون اسرائیلی حکومت کے ایک موثر ذریعہ تھا کہ یہودی آباد کاروں کو فلسطینیوں کے خلاف مغربی کنارے میں بڑھی ہوئی پر تشدد کارروائیوں سے روکے مگر اسی سے استثنا دے دیا گیا ہے۔
ایک اور انسانی حقوق ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو نظر بند کرنے کے اسی قانون کو بے دریغ استعمال کرتی ہے اور ایک بار نظر بند کیے گئے فلسطینی کی نظر بندی کی مدت میں بار بار اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ لیکن یہودی آباد کاروں کو اس سے محفوظ بنا دیا گیا ہے۔
واضح رہے برطنوی دور کے اس قانون کے تحت حکومت کسی بھی شہری کو بغیر مقدمے اور ایف آئی آر کے چھ ماہ تک قید رکھ سکتی ہے اور بعد ازاں چاہے تو اس میں توسیع کر سکتی ہے۔
فلسطینیوں کو اس قانون کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جبکہ یہودی آباد کاروں کو اب اس کے خوف سے بھی نجات دلا دی گئی ہے۔ فلسطینی اسیران کے لیے کام کرنے والی ادارے ' پی پی سی ' نے ماہ اگست میں بتایا تھا کہ مغربی کنارے کے 3432 فلسطینیوں کو اسرائیلی حکومت نے بغیر کسی مقدمے اسی قانون کے تحت نظر بند کر رکھا ہے۔