لبنانی فوج نے اتوار کے روز کہا ہے کہ وہ صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے اور دارالحکومت دمشق پر قبضے کے بعد شام کے ساتھ ملحقہ سرحد پر اپنی موجودگی کو مزید تقویت دے رہی ہے۔
فوج نے ایک بیان میں کہا، "تیزی سے بدلتی ہوئی صورتِ حال اور خطے کو درپیش نازک حالات کی روشنی میں شمالی اور مشرقی سرحدوں کی نگرانی اور کنٹرول کرنے والے یونٹس کو مزید مضبوط کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی نگرانی کے اقدامات سخت کر دیئے گئے ہیں۔"
اتوار کے روز شامی باغیوں نے دمشق میں طاقت سے داخل ہو کر اعلان کیا کہ انہوں نے "ظالم" اسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اسد کے بارے میں اطلاعات کے مطابق ملک سے فرار ہونے کے بعد ان کا موجودہ ٹھکانہ معلوم نہیں ہے۔
اے ایف پی کے ایک نمائندے نے دونوں ممالک کے درمیان مرکزی مصنع راہداری پر درجنوں گاڑیوں کی قطار دیکھی کیونکہ شامی خاندان اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے تھے اور ہجوم نے خوشی کا اظہار کیا اور اسد کی مخالفت نعرے لگائے۔
لبنانی وزیرِ اعظم نجیب میقاتی نے کہا کہ انہوں نے آرمی کمانڈر جوزف عون اور سکیورٹی فورسز کے سربراہان سے ایک فون کال میں شامی سرحد کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔
ان کے دفتر کے ایک بیان میں کہا گیا کہ میقاتی نے "سرحد پر کنٹرول سخت کرنے اور لبنان کو شام میں ہونے والی پیش رفت کے اثرات سے دور رکھنے کو ترجیح دینے" پر زور دیا۔
حکام نے کہا ہے کہ لبنان اس وقت تقریباً 20 لاکھ شامی باشندوں کی میزبانی کر رہا ہے جبکہ 800,000 سے زیادہ اقوامِ متحدہ میں رجسٹرڈ ہیں جو دنیا میں فی کس مہاجرین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
-
چالیس سال قبل لاپتہ ہونے والے لبنانی کے حماہ جیل ملنے سے لبنان کے پرانے زخم تازہ
لبنانی واٹس ایپ گروپس اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے شام میں باغیوں کے ...
مشرق وسطی -
شام میں ظالم حکومت آخر کار انجام کو پہنچ گئی: فرانسیسی صدر
اتوار کو فرانسیسی صدرعمانویل میکروں نے شام کے صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کی ...
مشرق وسطی -
شامی فوج کی شہروں سے تیزی پسپائی اور اسد رجیم کا سقوط اتنا جلدی کیوں ہوا؟
شامی فوج کا روس، ایران ، حزب اللہ اور الحشد ملیشیا پر بہت زیادہ انحصار، تربیت ، ...
مشرق وسطی