بشار الاسد کے زوال کے بعد شام کی سرحد پر فوجی بڑھا رہے ہیں: لبنان

ملک کو شام میں ہونے والی پیش رفت کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے: میقاتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنانی فوج نے اتوار کے روز کہا ہے کہ وہ صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے اور دارالحکومت دمشق پر قبضے کے بعد شام کے ساتھ ملحقہ سرحد پر اپنی موجودگی کو مزید تقویت دے رہی ہے۔

فوج نے ایک بیان میں کہا، "تیزی سے بدلتی ہوئی صورتِ حال اور خطے کو درپیش نازک حالات کی روشنی میں شمالی اور مشرقی سرحدوں کی نگرانی اور کنٹرول کرنے والے یونٹس کو مزید مضبوط کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی نگرانی کے اقدامات سخت کر دیئے گئے ہیں۔"

اتوار کے روز شامی باغیوں نے دمشق میں طاقت سے داخل ہو کر اعلان کیا کہ انہوں نے "ظالم" اسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ اسد کے بارے میں اطلاعات کے مطابق ملک سے فرار ہونے کے بعد ان کا موجودہ ٹھکانہ معلوم نہیں ہے۔

اے ایف پی کے ایک نمائندے نے دونوں ممالک کے درمیان مرکزی مصنع راہداری پر درجنوں گاڑیوں کی قطار دیکھی کیونکہ شامی خاندان اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے تھے اور ہجوم نے خوشی کا اظہار کیا اور اسد کی مخالفت نعرے لگائے۔

لبنانی وزیرِ اعظم نجیب میقاتی نے کہا کہ انہوں نے آرمی کمانڈر جوزف عون اور سکیورٹی فورسز کے سربراہان سے ایک فون کال میں شامی سرحد کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔

ان کے دفتر کے ایک بیان میں کہا گیا کہ میقاتی نے "سرحد پر کنٹرول سخت کرنے اور لبنان کو شام میں ہونے والی پیش رفت کے اثرات سے دور رکھنے کو ترجیح دینے" پر زور دیا۔

حکام نے کہا ہے کہ لبنان اس وقت تقریباً 20 لاکھ شامی باشندوں کی میزبانی کر رہا ہے جبکہ 800,000 سے زیادہ اقوامِ متحدہ میں رجسٹرڈ ہیں جو دنیا میں فی کس مہاجرین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں