قطر نے شامی اپوزیشن گروپ 'تحریر الشام' سے روابط قائم کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

قطر کے سفارت کاروں نے پیر کے روز شامی اپوزیشن گروپ 'تحریر الشام' کے ساتھ بات کی ہے۔ قطر کے ایک سرکاری عہدے دار نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو اس بارے میں بریف کیا ہے۔

یہ رابطے قطری سفارت کاروں نے شام میں بشار الاسد کا تختہ الٹنے والے مسلح اپوزیشن گروپ کے ساتھ کیا ہے۔ 'رائٹرز' کے مطابق علاقے کی ریاستوں نے ایک دوڑ لگا رکھی ہے کہ 'تحریر الشام' کے ساتھ روابط جلد سے جلد قائم کریں۔

قطری ذمہ دار کے مطابق قطر نے منگل کے روز شام کے عبوری وزیر اعظم مقرر کیے گئے محمد البشیر کے ساتھ بھی رابطہ کرنے کی تیاری کر رکھی ہے۔

ان ذرائع کے مطابق ملاقاتوں اور رابطوں کا مقصد شام میں امن و امان کی بحالی اور عبوری دور میں شامی اداروں کو بحال اور برقرار رکھنے کے لیے کوشش کرنا ہے۔ واضح رہے ابھی تک امریکہ یا کسی مغربی ملک نے براہ راست 'تحریر الشام' کے کسی ذمہ دار سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی جنگجو گروپ کے اقتدار پر قبضے کے ساتھ ہی مختلف ملکوں نے اپروچ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگست 2021 میں جب افغان طالبان نے کابل سے امریکی حمایت یافتہ اشرف غنی حکومت کو چلتا کیا تھا تو اس وقت طالبان کے ساتھ اس قدر تیز رابطہ کاری کی صورت حال بالکل نہیں تھی۔ اب معاملہ کافی متاثر کن ہے۔

پچھلے دو دنوں سے پورے خطے کی حکومتیں بشارالاسد کے اقتدار کا خاتمہ کرنے والے 'تحریر الشام' کے ساتھ رابطے کی کوشش میں ہیں۔ تاہم قطری وزارت خارجہ نے اپنے ملک کی رابطہ کاری کے بارے میں تبصرہ نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب بشارالاسد کے اتحادی رہنے والے ایران نے بھی 'تحریر الشام' کی ملٹری ایڈمنسٹریشن کے ساتھ رابطے کیے ہیں۔ اس بارے میں ایک ایرانی ذمہ دار نے 'رائٹرز' سے کہا ہے ان کا ملک چاہتا ہے ممالک کے درمیان دشمنی کا ماحول جلد ختم ہو۔

معلوم ہوا ہے کہ 'تحریر الشام' کے ساتھ قطری رابطوں کی کوشش قطری وزیر اعظم کے زیر صدارت علاقے کے کئی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد کی گئی ہے۔ اس اجلاس میں سعودی عرب، ترکیہ کے ساتھ روس ، ایران، مصر، اردن اور عراق وغیرہ کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی تھی۔

ان وزرائے خارجہ نے بشار الاسد کے فرار سے کئی گھنٹے پہلے ہی ہفتے کو رات گئے یہ سوچ لیا گیا تھا کہ 'تحریر الشام' کے ساتھ رابطے میں آنا چاہیے تاکہ داعش ایسے گروپوں کو شام میں پاؤں رکھنے کی جگہ نہ مل سکے اور شام میں استحکام لایا جا سکے۔

قطر خطے کا ایک اہم ملک ہے اور واشنگٹن کا بڑا اتحادی بھی مانا جاتا ہے۔ یہ امریکہ اور یورپ کے ملکوں کے ان کے مخالف ملکوں کے ساتھ مذاکرات کرانے میں ہمیشہ بروئے کار رہا ہے۔

وزرائے خارجہ کی مذکورہ بالا مشاورت اور 'تحریر الشام' کے ساتھ رابطوں کے بارے میں قطری وزارت خارجہ کے علاوہ مصر، ترکیہ، اردن، روس اور عراق کے ذمہ داروں نے فی الحال 'رائٹرز' کی درخواست کے باوجود تبصرہ نہیں کیا ہے۔

دریں اثنا روسی خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ 'تحریر الشام' نے ماسکو کو گارنٹی دی ہے کہ شام میں اس کے فوجی اڈے اور سفارتی ادارے محفوظ رہیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں