شام میں اپنے اتحادی بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی کے ذریعے تصدیق کی ہےکہ ان کا ملک اس تبدیلی سے متاثر یا کمزور نہیں ہوگا۔
سلامی نے منگل کو پارلیمنٹ کے اراکین کے ساتھ ایک غیر عوامی اجلاس کے دوران مزید کہا کہ "ہم کمزور نہیں ہوں گے اور کچھ بھی ہمارے ملک کی طاقت کو کم نہیں کرے گا"۔
انہوں اس بات پر زور دیا کہ ایرانی افواج اب شام میں موجود نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ"بشار الاسد کےاقتدار کے خاتمے سے پہلے آخری لمحے تک ہمارے فوجی مشیر اور افواج شام میں موجود تھیں، لیکن فی الحال، وہاں کوئی ایرانی افواج موجود نہیں ہے"۔
ایران نے اپنے مشیروں کو واپس بلا لیا
یہ بیانات متعدد ذرائع کی اطلاع کے بعد سامنے آئے ہیں کہ تہران نے پاسداران انقلاب کی قدس فورس میں شامل اپنے اہم ترین مشیروں اور فوجی کمانڈروں کو بشار الاسد کےسقوط سے قبل شام سے واپس بلا لیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ اس کے سفارت کار بھی شام سے واپس آگئے تھے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ گذشتہ دنوں سینکڑوں ایرانی جنگجوؤں نے عراق کا رخ کیا۔
قبل ازیں ایرانی اور شامی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ تہران نے اسد کو مطلع کیا کہ اگر اس کی حکومت کو کوئی بھی ایرانی مدد ملتی ہے تو وہ بہت محدود ہو گی۔
یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایرانی حکام نے شام کے سابق صدر پر مسلح دھڑوں کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب تیاری نہ کرنے کا الزام لگایا۔
-
شام میں الاسد کے زوال کے بعد ایران کی طاقت میں کمی نہیں آئی: کمانڈر پاسدارانِ انقلاب
ایران کے دعوے کے برعکس خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم ہوا ہے
مشرق وسطی -
آخری عشائیہ کی تفصیلات ایران اور روس نے بشارالاسد کو کیسے تنہا چھوڑ دیا؟
شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے سے قبل ایران نے اپنے وزیر خارجہ عباس ...
بين الاقوامى -
ایران شام کی نئی قیادت کی قوتوں سے براہِ راست رابطے میں ہے: ایرانی عہدیدار
الاسد کے زوال سے شام اور خطے میں ایران کے اثر و رسوخ پر گہرے اثرات ہوں گے
مشرق وسطی