عراق : شادی ہال کے مالک کو 10 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق میں بدھ کے روز شادی ہال کے ایک مالک کو پچھلے سال شادی ہال میں پیش آنے والے آتشزدگی واقعے کی بنا پر 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ آتشزدگی کے اس واقعے میں 134 شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے شادی ہال کے اس مالک پر الزام تھا کہ اس نے شادی ہال کی تعمیر میں ایسا میٹیریل شامل کیا تھا جو شعلے پکڑنے والا تھا جبکہ وہاں پر آتش بازی بھی کی گئی تھی۔ یہ دونوں کام غیر قانونی تھی۔ جس کے نتیجے میں لگنے والی آگ پر قابو نہ پایا جا سکا۔

یہ خوفناک واقعہ ستمبر 2023 میں قاراقوش نامی قصبے میں ہوا تھا۔ آتشزدگی کے موقع پر شادی ہال میں 900 مہمان موجود تھے جبکہ گنجائش 400 کی تھی۔

جب شادی ہال میں آگ لگی تو ہال کے مالک نے غلطی سے بجلی بند کر دی اور وہ یہ سمجھا کہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی ہے۔ اس کی وجہ سے ہال میں اندھیرا ہو گیا اور لوگوں کے لیے بچ نکلنے کے راستے میں اور مشکل پیش آگئی۔

عدالت نے الھیثم ہال کے مالک کو سرکاری حکام کے دستاویز میں لگائے گئے الزام کی بنیاد پر سزا سنا دی ہے۔ حکومت نے اس آگ لگنے کے واقعے کے بعد شمالی عراق میں انتظامی حکام کو غفلت، لاپرواہی اور اپنے فرائض میں کوتاہی کی وجہ سے ملازمت سے فارغ کر دیا تھا۔

خیال رہے عراق میں تعمیراتی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بطور خاص حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ ان دونوں شعبوں میں قواعد اور قوانین کی پابندی کا رجحان بہت کم ہے۔

ملک میں کرپشن بڑھ گئی ہے جبکہ جنگ زدہ ملک ہونے کی وجہ سے انفراسٹرکچر پوری طرح تباہ ہے اور نئی تعمیرات میں قواعد کو نظر انداز کر کے ناقص میٹیریل کے استعمال کا الزام بھی سامنے آتا رہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں