شام میں حال ہی میں اقتدار میں آنے والی حکمران جماعت کے مضبوط گڑھ میں آنے والے لوگوں کی حیرانی اس وقت قابل دید تھی جب انہوں نے چمکتی دمکتی دکانوں پر اشیائے ضروریہ کی بھرمار دیکھی۔ یہ صورتحال شام کے شمال مغربی قصبے دانا میں سامنے آئی جو ادلب صوبے میں واقع ہے اور شام کے دوسرے بڑے شہر حلب سے صرف 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
تاہم یہ شہر پچھلے کئی دنوں سے باقی ملک سے کٹا ہوا ہے۔ خاص طور پر جب سے بشار الاسد کی حکومت کا اقتدار اختتام کو پہنچا ہے۔
خریداری کا یہ مرکز جس میں چمکتی دمکتی اشیائے ضروریہ کی بھرمار دیکھی گئی ہے ترکیہ کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ جس میں یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ آپ ترکیہ کی کرنسی لیرا اور امریکی ڈلالرمیں بھی خریداری کر سکتے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ یہ چیزیں شام کے طاقتور ہمسایہ ملک کی طرف سے لائی گئی ہیں۔ ان اشیائے ضروریہ میں جو برائے فروخت ہیں کپڑے، بجلی کا سامان ، فرنیچر اور دیگر ضروری اشیاء گلیوں اور دکانوں میں سجائی گئی ہیں۔
54 سالہ خاتون عائشہ جو حلب سے اپنے خاندان کے ساتھ شاپنگ کے لیے آئیں تھیں نے کہا 'میں نے بہت عرصے بعد اتنی بڑی تعداد میں یہ سب چیزیں کسی بازار میں دیکھی ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کدھر دیکھیں اور کدھر نہ دیکھیں۔ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ یہ چیزیں آج ہمارے اتنا قریب ہیں اور سامنے ہیں۔ اب ہم کبھی حلب نہیں چھوڑیں گے۔
یاد رہے حلب حالیہ تبدیلی کے دنوں کے دوران وہ پہلا شہر تھا جس پر سابقہ اپوزیشن جماعت نے قبضہ کیا۔ اس شہر میں اب بھی پورے دن میں صرف 3 گھنٹے کے لیے بجلی آتی ہے۔ لیکن دانا کے اس شاپنگ مال میں 13 سال بعد ہر طرف اشیاء کی چکا چوند نظر آرہی تھی۔
سرمایہ دار ریجن ترکیہ کے بہت قریب ہے۔ یہ نسبتا خوشحال ہے کہ جب حلب ایک طرح سے گھیرے میں تھ ااور لڑائی جاری تھی تو بشار دور میں ٹیکس کم اور کرپشن زیادہ ہو گئی تھی۔
جبکہ ادلب جو کہ اپوزیشن کا دارالحکومت تھا اور اسے روسی بمباری کا بار بار نشانہ بننا پڑا تھا، اس طرح کے ماحول سے بچا ہوا تھا۔
کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر نے کہا ہے کہ 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی اور دمشق و انقرہ کے درمیان پھوٹ پڑنے سے خطے میں خوشحالی آئی تھی۔ کہ بشار الاسد نے ترکیہ سے سامان کی درآمد روک دی تھی۔
بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد شہری خریداری کے لیے حلب، حما، حمص اور دمشق کا رخ کر رہے ہیں۔
42 سالہ مہر الاحمد جو قالین اور گھریلو سامان کی فروخت کا سٹور چلاتے ہیں نے کہا 'لوگ خریداری کرتے ہوئے حیران ہیں۔ لوگ ہمارے پاس آتے ہیں کہ ہمارے پاس ان کی ضرورت کی ہر چیز موجود ہے۔'
-
امریکی ڈالر کے مقابلے شامی کرنسی مضبوط ہو گئی: مقامی کرنسی ایکسچینجرز
دمشق کے کرنسی ایکسچینجرز نے ہفتے کے روز بتایا کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں شام کی ...
مشرق وسطی -
ایک نیا موقع، شام کی حکومت میں تمام گروپوں کو شامل کرلیا جائے: نمائندہ اقوام متحدہ
اس بات کو یقینی بنانا چاہیے ریاستی ادارے تباہ نہ ہوں، اور انسانی امداد جلد از جلد ...
مشرق وسطی -
شام میں ریاست کی تعمیر کی حمایت کرتے ہیں، دہشت گردی کی نہیں : عرب رابطہ کمیٹی
شام کے حوالے سے عرب وزارتی کمیٹی کا خصوص اجلاس آج ہفتے کے روز اردن کے شہر العقبہ ...
مشرق وسطی