ایران نے سویڈن اور بیلجیئم کے تفتیش کاروں کے اس دعوے کو "احمقانہ اور مضحکہ خیز" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا کہ اسلامی جمہوریہ نے ان ممالک میں اسرائیلی اہداف پر حملے کے لیے بچوں کو بھرتی کیا ہے۔
اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتے کے روز بلوم برگ کے رپورٹ کیے گئے الزامات کو "لغو، شرمناک اور غیر اخلاقی" قرار دیا اور مزید کہا، ایران کے پاس "کبھی پراکسی نہیں تھی" اور نہ ہی اسے اس کی ضرورت ہے۔
سویڈش پولیس کی اطلاعات کے مطابق ایک 15 سالہ لڑکے کو اس سال کے شروع میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب اس نے گولیوں سے بھری پستول کے ساتھ ایک ٹیکسی میں اسرائیلی سفارت خانے تک جانے کی کوشش کی۔ برسلز میں سکیورٹی سروسز نے مئی میں یہ بھی کہا تھا کہ انھوں نے 14 سال تک کی عمر کے بچوں کو وہاں اسرائیل کے مشن پر حملے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے پایا۔
دونوں ممالک نے کہا ہے کہ ان واقعات کے پسِ پردہ ایران سے وابستہ عناصر کارفرما ہیں اور وہ ایک نئے رجحان کا حصہ ہیں۔ یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب شرقِ اوسط میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے خلاف اسرائیل کی جنگ جاری ہے اور لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں حماس خاصی کمزور ہو چکی ہیں۔