نومنتخب امریکی صدر کے نمائندے کو قطر نے غزہ جنگ بندی سے متعلق بریف کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے خلیجی ملک قطر نے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے نمائندہ سٹی وٹکاف کو جنگ بندی کے لیے مذاکراتی عمل سے آگاہ کیا۔

جنگ بندی کے لیے قطر اور مصر کے علاوہ اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی ملک امریکہ بھی ثالثی کے عمل کا حصہ ہے۔

امریکی صدر کے نمائندے نے اس سلسلے میں جمعہ کے روز دوحا میں وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی کے ساتھ ملاقات کی اور جنگ بندی کی کوششوں کے بارے میں تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کی۔ یہ بات قطر کی وزارت خارجہ نے ہفتہ کے روز بتائی ہے۔

واضح رہے رواں ماہ کے شروع میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششوں کا ایک نیا آغاز ہوا تھا۔

تاکہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ روکی جائے اور درجنوں اسرائیلی قیدیوں کو رہائی مل سکے۔

سفارتی ذرائع اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کی طرف سے اسرائیل پر دباو ڈال رہی ہے کہ وہ جنگ بندی کرے۔ خود اسرائیل کے اندر بھی عوامی سطح پر اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ غزہ سے اسرائیلی قیدیوںں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ جلد سے جلد معاہدہ کرے۔

خود سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ بھی کھلے عام یہ کہہ چکے ہیں کہ سارے مقاصد فوج یا جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کیے جا سکتے ۔ اس لیے اسرائیل کو چاہیے کہ وہ سفارتی و مذاکراتی کوششوں کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے جمعرات کے روز ایک بار پھر کہا ہے کہ جنگ بندی کے لیے کوششوں میں تھوڑی حقیقی پیش رفت ہو رہی ہے۔ دوسری جانب نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے ورنہ جہنم جیسی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔

تاہم بہت سارے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جوبائیڈن کی انتظامیہ کے زیر نگرانی کسی جنگ بندی کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے زیر نگرانی جنگ بندی کو ترجیح دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں