اقوام متحدہ کی فلسطینیوں کی امداد کے لیے ایجنسی 'انروا' کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے پابندی لگائے جانے کے باوجود 'انروا' فلسطینیوں کی مدد کا کام جاری رکھے گا۔ 'انروا' چیف نے یہ بات بدھ کے روز زور دیتے ہوئے کہی۔
اسرائیل نے بین الاقوامی سطح سے سخت تشویش کے اظہار کے باوجود اقوام متحدہ کے اس ادارے کو فلسطینیوں کی مدد کرنے سے روکنے کے لیے غزہ میں جنگ کے دوران ایک طرف مسلسل رکاوٹیں پیدا کیں اور پھر بالآخر اپنی پارلیمان کے ذریعے 'انروا' پر فلسطین کے تمام علاقوں میں سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔
اسرائیل کی پارلیمان کی طرف سے عائد کردہ یہ پابندی جنوری کے اواخر میں نافذ العمل ہو جائے گی اور غزہ کے علاوہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں بھی 'انروا' کے کارکن فلسطینیوں کی امداد کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکیں گے۔
'انروا' کے سربراہ فلپ لازارینی نے اسرائیلی ناجائز پابندی کو بدھ کے روز اوسلو میں مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے مطابق کام جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
'انروا' کی اقوام متحدہ کی طرف سے تشکیل خالصتاً فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے کی گئی تھی۔ جس کے کارکنوں کی تعداد 33 ہزار سے زائد ہے جو غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے علاوہ اردن اور لبنان میں ہر جگہ فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔
صرف غزہ کے علاقے میں 13 ہزار 'انروا' اہلکار فلسطینیوں کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔ تاہم اسرائیلی فوج نے غزہ جنگ کے دوران 'انروا' سمیت دیگر امدادی کارکنوں کو سینکڑوں کی تعداد میں ہدف بنا کر ہلاک کیا ہے۔
اس صورتحال میں 'انروا' کے سربراہ نے کہا 'انروا' کا مقامی عملہ فلسطین کے تمام علاقوں میں اسرائیلی پابندیوں کے باوجود اپنا کام جاری رکھے گا۔ جو بےگھر اور نقل مکانی کر چکے فلسطینیوں اور ان کے بچوں کی انسانی بنیادوں پر ہنگامی امداد اور تعلیم و صحت کی سہولتوں کا بندوبست کرتا رہے گا۔'
لازارینی نے کہا 'اسرائیل اور 'انروا' کے درمیان رابطے کی عدم موجودگی اگرچہ ایجنسی کے غزہ کی پٹی پر کام کو مزید مشکل اور خطرناک بنا دے گی۔ لیکن اس کے باوجود ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔ '
وہ غزہ کی پٹی پر پچھلے 15 ماہ سے زائد عرصے پر پھیلی اسرائیلی جنگ کا ذکر کر رہے تھے۔
تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ 'انروا' کے غیرمقامی کارکن جو فلسطینی علاقوں میں موجود ہیں اپنے ویزے کے خاتمے اور منسوخی کے بعد ان کے لیے وہاں رہنا مشکل ہوگا۔ اس لیے وہ نکل آئیں گے۔ مقامی کارکن انتہائی مشکل اور خطرناک صورتحال میں بھی اپنا کام جاری رکھیں گے۔'
انہوں نے کہا 'اس طرح کے مخاصمانہ اور دشمنی پر مبنی ماحول جو اسرائیل نے بنا دیا ہے بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے اور مزید یہ کہ اسرائیل 'انروا' کے خلاف جھوٹی اطلاعاتی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ '
واضح رہے غزہ کی اسرائیلی جنگ میں اب تک 46707 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔ جبکہ 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے بار بار کی بمباری سے بےگھر کر دیا ہے۔
-
حماس کے غزہ جنگ میں ہلاک ہوئے مزاحمت کاروں کے برابر مزید بھرتی کر لیے : بلنکن
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن قائم نہیں ہو ...
بين الاقوامى -
غزہ : امکانی جنگ بندی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں
ابتدائی طور پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق حماس اس امکانی معاہدے کے تحت پہلے ...
مشرق وسطی -
غزہ معاہدہ ... نیتن یاہو کی مشاورت جاری ، حماس نے جواب کے لیے مہلت مانگ لی
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی علاقے کی فوجی کمان نے غزہ سے بتدریج ...
بين الاقوامى