شام کی تقسیم کا خطرہ بدستور موجود ہے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

گذشتہ ماہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے باوجود اقوام متحدہ نے تقسیم کے خطرے کے بارے میں اپنے خدشات کو نئے سرے سے ظاہر کیا ہے۔

تقسیم کا خطرہ اب بھی موجود ہے

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بدھ کے روز کہا کہ شام میں تقسیم کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔

انہوں نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں کہا کہ شام کی تقسیم اب بھی ممکن ہے، خاص طور پر شام کی ڈیموکریٹک فورسز کی موجودگی کے ساتھ جو ملک کے شمال مشرقی حصے کے علاقوں کو کنٹرول کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ شام میں ترکیہ اور اسرائیل کی اپنے اپنے طور پر دراندازی بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام کی تقسیم کا ایک سبب ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی بھی ہے۔

ایران کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ تہران کو خطے کے ممالک اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی جانب قدم اٹھانا چاہیے اور یہ واضح کرنا چاہیے کہ اس کا مقصد جوہری ہتھیار بنانا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے اہم مسئلہ ایران کے اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تعلقات کا ہے۔

انہوں نے امید کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایرانی اس بات کو سمجھ لیں گے کہ جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے اپنے ارادے کو واضح کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعمیری طور پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد تل ابیب کی جانب سے وہاں شروع ہونے والے آپریشن کی وجہ سے پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ مغربی کنارے کو الحاق کرنے کا یہ صحیح وقت ہے۔

شام کی چھاؤنیوں میں تقسیم

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک اسرائیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کابینہ نے ایک خفیہ اجلاس منعقد کیا تھا جس میں شام میں مستقبل پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اسرائیلی اخبار ’اسرائیل ھیوم‘ کے مطابق اجلاس میں شام کو چھاؤنیوں میں تقسیم کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنےکی تجویز پیش کی گئی تھی‘‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کی سربراہی میں ہونے والی اعلیٰ سطحی خفیہ میٹنگ کا نتیجہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو پیش کیا گیا، جو آنے والے دنوں میں اس معاملے پر غور کرنے کے لیے ایک خصوصی اجلاس منعقد کریں گے، جس میں خاص طور پر شام میں ترکیہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ شام کو صوبوں یا چھاؤنیوں میں تقسیم کرنے کے مطالبے پر اس سے قبل اسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل کے بہت ہی اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی حکام نے شام میں تمام نسلی گروہوں کی سلامتی اور حقوق کو یقینی بنانے کے بہانے بات کی تھی.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں