شام : 30 فیصد پناہ گزین پڑوسی ملکوں سے واپس آنے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں پناہ لیے ہوئے شامی پناہ گزینوں کی کم از کم 30 فیصد تعداد اگلے سال واپس اپنے گھروں میں آنے کی خواہش مند ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے سربراہ نے مختلف ملکوں میں موجود شامی پناہ گزینوں کے حوالے سے مختلف رپوٹس کی بنیاد پر کہی ہے۔

شامی پناہ گزینوں کی گھروں کو واپسی کا یہ رجحان بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد سامنے آنا شروع ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں نے ماہ جنوری کے دوران اس سلسلے میں شامی پناہ گزینوں کے بارے میں اپنے مختلف جگہوں سے اندازے مرتب کیے ہیں جو خانہ جنگی کے پچھلے 13 برسوں کے دوران لاکھوں کی تعداد میں شام سے دوسرے ملکوں میں منتقل ہوگئے تھے۔

تاہم بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد شامی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا یہ رجحان تیزی سے اوپر آیا ہے اور محض ایک مہینے کے اندر اندر 30 فیصد شامی شہری وطن واپس آنے کے خواہش مند ہیں۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے سربراہ فلیپو گرانڈی نے دمشق میں شام کی نئی انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ 'آخرکار برسوں کے زوال کے بعد ہم نے سوئی کی حرکت دیکھی ہے۔ شامی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کی خواہش صفر تک پہنچ چکی تھی۔ اب چند ہفتوں کے دوران یہ تعداد 30 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ میرے خیال میں اس خواہش کو ضرور سننا چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔ '

انہوں نے مزید کہا ' بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد تقریباً 2 لاکھ شامی پناہ گزین واپس شام جا چکے ہیں۔' واضح رہے شام کی نئی رجیم کا بنیادی مقصد شامی پناہ گزینوں کو واپس شام لانا ہے۔

گرانڈی نے کہا 'واپسی کے خواہش مند شامی پناہ گزین امداد کے منتظر ہیں۔ انہیں اس سفر کے لیے رقم کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے ان پناہ گزینوں کو نقل و حمل میں مدد دینے کے لیے امدادی رقم فراہم کر رہے ہیں۔ نیز ان کے گھروں کی تعمیر نو کے لیے بھی مدد کی جارہی ہے۔'

انہوں نے مزید کہا ہمیں اس کام کے لیے عطیہ دہندگان کی ضرورت ہے۔ نیز ان امداد فراہمی کی پابندیوں پر نئے سرے سے غور کیا جانا چاہیے۔

تاہم گرانڈی نے ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے غیر ملکی امدادی پروگرام پر عائد کی گئی پابندیوں پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا ہے۔ لیکن انہوں نے کہا ان پابندیوں کے ہٹ جانے سے ان علاقوں میں حالات بہتر ہوجائیں گے جہاں ان پناہ گزینوں کو جانا ہے۔

گرانڈی نے پریس کانفرنس کے دوران احمد الشرع کے پناہ گزینوں کے عزم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'پناہ گزین سن رہے ہیں کہ کیا کہا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں اسی لیے شامی پناہ گزین واپس شام آنا چاہتے ہیں۔'

گرانڈی نے کہا 'اگر یہ چیزیں مثبت انداز میں رہتی ہیں تو اور بھی بہت مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں