خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں کل بدھ 29 جنوری کو ریاض میں انٹرنیشنل لیبر مارکیٹ کانفرنس (جی ایل ایم سی) کے دوسرے ایڈیشن کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اس ایڈیشن کو "کام کا مستقبل" کا عنوان دیا گیا ہے۔ لیبر مارکیٹ میں دلچسپی رکھنے والے 45 وزرائے محنت، سربراہان اور بین الاقوامی فورم کے نمائندے کانفرنس میں شریک ہو رہے ہیں۔ 100 سے زیادہ ملکوں سے 5000 سے زیادہ شرکا میں لیبر پالیسی ساز اور ماہرین شامل ہیں۔ کانفرنس میں 200 ماہرین خطاب کر رہے ہیں۔
انٹرنیشنل لیبر مارکیٹ کانفرنس دو روز تک دارالحکومت ریاض کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل کانفرنس سنٹر میں منعقد ہوگی۔ اس کا اہتمام وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی کے زیر اہتمام کیا جائے گا۔ اس میں بین الاقوامی ماہرین اور رہنماؤں کی وسیع شرکت ہوگی۔
کانفرنس میں بہت سے ایونٹس کو شامل کیا گیا ہے۔ لیبر وزراء کی وزارتی میٹنگ، گول میز اجلاس، بہت سے معاہدوں پر دستخط اور انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی وزارت کی طرف سے نافذ کردہ اہم ترین مصنوعات کی نمائش کی جارہی ہے۔ یہ وہ مصنوعات ہیں جنہوں نے مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی ایوارڈز حاصل کیے ہیں۔ دو طرفہ اجلاسوں میں لیبر مارکیٹوں کے لیے سرکاری شعبے کے نمائندوں اور بین الاقوامی پیشہ ورانہ تنظیموں کے شرکا موجود ہوں گے۔
بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے اشتراک سے منعقدہ ڈائیلاگ سیشن رکھا گیا ہے۔ عالمی بینک، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کے تعاون سے سرگرمیاں رکھی گئی ہیں۔
کانفرنس کا نعرہ "کام کا مستقبل" ہے اور یہ حل پیش کرنے، تخلیقی خیالات پیش کرنے، بہترین طریقوں اور عالمی تجربات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ عالمی لیبر مارکیٹوں میں مسائل اور چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ پائیدار انداز میں مہارتوں اور انسانی صلاحیتوں کی نشوونما کو اجاگر کرنے پر بات چیت ہوگی۔ تیز رفتار تبدیلیوں کے ساتھ رفتار کو برقرار رکھنے اور نوجوانوں کے چیلنجوں کو پیش کرنے اور گرین ملازمتوں کو فروغ دینے پر بحث ہوگی۔
معاشی ترقی اور کارکردگی کے درمیان توازن کو بڑھانے کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے اور ایک منصفانہ اور پائیدار معیشت کے لیے عالمی کوششوں پر بات چیت ہوگی۔ ملازمت کے جدید مواقع پیدا کرنے میں چھوٹی کمپنیوں کے کردار اور کام کے نئے ماڈلز پر تبادلہ خیال بھی ہوگا اور معاشی ترقی اور عالمی لیبر مارکیٹوں کی مسابقت کو بڑھانے پر تجاویز پیش کی جائیں گی۔
انسانی وسائل اور سماجی ترقی کے وزیر انجینئر احمد الراجحی نے وضاحت کی کہ بین الاقوامی لیبر مارکیٹ کانفرنس کا دوسرا ایڈیشن خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں سعودی عرب کے ان اقدامات کی عکاسی کرتا ہے جو محنت کی منڈیوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت میں کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا یہ ایڈیشن جدید اور پائیدار حل فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے جو لیبر مارکیٹ کی پالیسیوں کو تیار کرنے، اہلیت کو بااختیار بنانے اور بین الاقوامی تعاون کو بڑھانے میں معاون ہے۔
لیبر مارکیٹ کے حالات
انٹرنیشنل لیبر مارکیٹ کانفرنس ایک غیر معمولی عالمی پلیٹ فارم ہے جو اپنی چھتری کے نیچے حکومتوں، بین الاقوامی اداروں، نجی شعبے کے ماہرین اور ماہرین تعلیم کو اکٹھا کرتا ہے تاکہ لیبر مارکیٹ کے حالات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے اور اس کے مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اسی طرح مارکیٹ کو درپیش چیلنجز کا حل تلاش کیا جا سکے۔ کانفرنس کی میزبانی کے سب سے نمایاں اہداف میں سے ایک سعودی لیبر مارکیٹ کی کشش کو بڑھانا اور عالمی سطح پر اس کی مسابقت کو بڑھانا ہے۔