ترکیہ : اسرائیلی جیل سے رہا ہونے والے بعض فلسطینیوں کو قبول کر سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیضان نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیلی جیلوں سے رہا کیے گئے بعض فلسطینی قیدیوں کو اپنے ہاں قبول کر سکتا ہے۔ یہ فلسطینی قیدی اسرائیل اور حماس کے جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں رہا ہوئے ہیں۔

ترک وزیر خارجہ نے اس امر کا عندیہ قطر کے اتوار کے روز ہونے والے دورے کے موقع پر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ' ہمارے صدر نے کہہ رکھا ہے کہ ہم کچھ فلسطینی قیدیوں کی اسرائیلی جیلوں سے رہائی کے بعد ان کا ترکیہ میں خیر مقدم کرنے کو تیار ہیں۔ '

خاقان فیضان نے اپنے قطری ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران کہا ' ہم ان فلسطینی قیدیوں کو جنگ بندی معاہدے کی حمایت کے لیے قبول کرنے کو تیار ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا 'ترکیہ اس سلسلے میں دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر اس کوشش میں رہے گا کہ یہ جنگ بندی معاہدہ آگے بڑھے۔'

خیال رہے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں حماس کی طرف سے اسرائیل کے 33 قیدیوں کو رہا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے جبکہ اس کے بدلے میں اسرائیل 1900 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔ ان میں سے کئی قیدیوں کو رہائی کے ساتھ ہی جلاوطن ہونا ہوگا۔

ہفتے کے روز اسرائیلی جیلوں سے 183 فلسطینی قیدی رہا کیے گئے ہیں۔ ان میں سے سات فلسطینیوں اور ایک مصری قیدی کو رہائی کے ساتھ ' ڈی پورٹ ' کر دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں