ترکیہ شامی فوج کو تربیت دے سکتا ہے: ذرائع نے انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

تقریباً 15 برسوں میں کسی شامی صدر کے انقرہ کے پہلے دورے میں عبوری دور کے لیے شام کے صدر احمد الشرع آج منگل کو ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کر رہے ہیں۔ بات چیت میں شام سے متعلق بہت سے مسائل اور دونوں ملکوں کے تعلقات کے بارے میں بات چیت متوقع ہے۔ باخبر ذرائع نے اس حوالے سے کچھ تفصیلات بتائی ہیں۔

وسطی شام میں ترک فضائی اڈے

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چار باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ توقع ہے کہ احمد الشرع ایردوان کے ساتھ ایک مشترکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں بات چیت کریں گے جس میں وسطی شام میں ترکیہ کے فضائی اڈوں کا قیام بھی شامل ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ترکیہ کی جانب سے نئی شامی فوج کی تربیت کے معاملے پر بات چیت کی جائے گی۔

ایس ڈی ایف فورسز پریشان

اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اس طرح کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو شامی جمہوری فورسز (SDF) کی تشویش میں اضافہ ہو گا۔ ایس ڈی ایف نے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے ہتھیاروں کو حوالے کرنے اور نئی شامی فوج میں شامل ہونے پر راضی ہو گیا ہے۔ شامی فوج کی تشکیل کے بعد اور اگلی حکومت اور آئین واضح ہونے کے بعد وہ شام کی نئی فوج میں شمولیت اختیار کر لیں گے۔

انقرہ پیپلز پروٹیکشن یونٹس ، جو ایس ڈی ایف کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، کو کردستان ورکرز پارٹی کی توسیع سمجھتا ہے۔ یہ 1984 سے ترک ریاست کے خلاف بغاوت کر رہی ہے اور انقرہ، یورپی یونین اور امریکہ نے اسے دہشت گرد گروپ کے طور پر درجہ بندی دی ہے۔ یاد رہے ترک حکام ایک دہائی سے زائد عرصے سے شامی مسلح اپوزیشن کی حمایت کر رہے ہیں۔

اس نے شام کی سرزمین کے اندر 3 فوجی آپریشن بھی شروع کیے ہیں جن میں سے دو نے کرد جنگجوؤں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے بعد ملک کے شمال مغرب اور مشرق میں واقع 3 شہروں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا۔ گزشتہ دسمبر کے اوائل میں مسلح دھڑوں کے دمشق کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد شمال مشرق میں ترک حمایت یافتہ فورسز اور کرد زیرقیادت فورسز کے درمیان لڑائیاں شروع ہو گئیں۔

یاد رہے ترک انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن نے شام کے سابق صدر بشار الاسد کی معزولی کے چند دن بعد دمشق کا دورہ کیا تھا۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان پہلے وزیر خارجہ تھے جنہوں نے بشار حکومت خاتمے کے بعد شام کے دارالحکومت کا دورہ کیا تھا۔ ترک حکام نے اس سے قبل شام میں تعمیر نو میں تعاون کرنے، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو، نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے، بجلی کی فراہمی اور پروازیں دوبارہ شروع کرنے میں مدد دینے کا وعدہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں