سعودی عرب کی افتتاحی بین الاقوامی آرٹ نیلامی: 17 ملین ڈالر سے زیادہ رقم جمع ہوئی

بعض فن پاروں کی نیلامی لاکھوں ڈالر میں ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ہفتے کے روز سعودی عرب میں ستاروں کی روشنی میں ایک تاریخی رات آشکار ہوئی جب مملکت نے اپنی افتتاحی بین الاقوامی نیلامی کی میزبانی کی جو فن اور پرتعیش اشیاء کے لیے وقف تھی۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے آبائی ثقافتی مرکز درعیہ میں منعقدہ اس اہم تقریب میں مجموعی طور پر 17.3 ملین ڈالر کی فروخت ہوئی جو خطے کی آرٹ مارکیٹ کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

فروخت نے 45 ممالک کے شوقین افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا جس میں تقریباً ایک تہائی خریداری سعودی خریداروں نے کی اور 30 فیصد سے زائد شرکاء 40 سال سے کم عمر تھے۔

اوریجنز کے عنوان سے اس بے مثال تقریب کی میزبانی دنیا کے ایک معروف نیلام گھر سودھابیز نے کی۔

تقریب کی اہمیت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سودھابیز میں فائن آرٹ کے سیلز کے سربراہ اشکان باغستانی نے کہا: "کئی سالوں سے سعودی عرب کی ثقافتی توسیع سودھابیز میں ہمارے لیے زبردست تحریک رہی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا: "ریاست کی جائے پیدائش اور ثقافت کے بڑھتے ہوئے نئے مرکز درعیہ کے پس منظر میں قائم خطے کی آرٹ مارکیٹ میں آج کی رات ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہم نے اپنی افتتاحی فروخت کے دوران یہاں جو نتائج حاصل کیے ہیں وہ واضح اشارہ ہے کہ یہاں بڑی تعداد میں آرٹ کے دیوانے موجود ہیں۔

فائن آرٹ میں اہم ترین فروخت

نیلامی میں اہم فن پاروں میں کولمبیا کے معروف فنکار فرنینڈو بوٹیرو کا سوسائٹی وومن کے عنوان سے ایک فن پارہ تھا جس نے 10 لاکھ ڈالر حاصل کیے جبکہ Banksy اور René Magritte دونوں کے فن پاروں نے 1.2 ملین ڈالر کمائے۔

پیبلو پیکاسو کیFleurs (1948) 204,000 ڈالر میں فروخت ہوئی جو اندازے سے تین گنا زیادہ تھا۔

سعودی فنکاروں کو بھی خوب نمائندگی ملی۔ جدید سعودی فن کے علمبردار محمد السلیم کی ایک پینٹنگ جس میں عربی خطاطی کو سعودی مناظر کے ساتھ ملایا گیا ہے، $660,000 میں فروخت ہوئی جو اندازے سے تین گنا زیادہ تھا۔

عبد الحلیم رضوی، احمد ماتر اور ماہا ملوح کے فن پاروں نے بھی توقعات سے بڑھ کر مجموعی طور پر 1.1 ملین ڈالر حاصل کیے۔

جدید عرب آرٹ میں نمایاں ترین فروخت لوئے کیالی کی 'دین وہاٹ؟' تھی جس نے 900,000 ڈالر میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔

دیگر قابلِ ذکر علاقائی فن پاروں میں سامیہ حلبی کا بلیو ٹریپ (اِن اے ریل روڈ اسٹیشن) 384,000 ڈالر میں اور Saloua Raouda Choucair کا لکڑی کا مجسمہ 144,000 ڈالر میں فروخت ہوا جس کی رقم تعلیم و تحقیق کے لیے وقف کر دی گئی۔

کھیلوں کی یادگار اور لگژری اشیاء کی فروخت

کھیلوں کی یادداشتوں میں 1998 کے این بی اے پلے آف کی گیم میں پہنی ہوئی مائیکل جارڈن کی جرسی نے 960,000 ڈالر کی شاندار قیمت حاصل کی۔

کرسٹیانو رونالڈو کی یو ای ایف اے 2024 یورپی چیمپیئن شپ کے میچ میں پہنی ہوئی جرسیاں اور دستخط شدہ جوتے بھی بہت مقبول ثابت ہوئے جو مجموعی طور پر 151,200 ڈالر میں فروخت ہوئے۔

لگژری آئٹمز کی زبردست بولی لگائی گئی جن میں Graff کی ڈائمنڈ پینڈنٹ کی بالیاں 780,000 ڈالر اور Hermès کے ایک ہیرے ہمالیہ برکن کی قیمت 336,000 ڈالر رہی جو تخمینے سے زیادہ تھی۔

ایک رولیکس پال نیومین ڈیٹونا 240,000 ڈالر میں فروخت ہوئی جبکہ اپنی نوعیت کی ایک ہی کمیشنڈ کارٹیئر کریش گھڑیکو 228,000 ڈالر حاصل ہوئے۔

سعودی آرٹ مارکیٹ کے لیے تاریخی لمحہ

اوریجنز نمائش کے مشمولات دو فروری سے درعیہ کے بوجیری ٹیرس پر نمائش کے لیے رکھے گئے تھے۔ آرٹ، عیش و عشرت اور ثقافت کی یہ نمائش ایک ہفتے تک جاری رہے گی۔

یہ نمائش سالانہ تہوار درعیہ سیزن کے ساتھ منعقد ہوئی جس میں علاقے کے بھرپور ورثے کی نمائش ہوتی ہے۔

تقریباً 2,500 زائرین اور 700 سے زائد پینل مباحثوں کے شرکاء کے ساتھ یہ تقریب عالمی آرٹ اور لگژری مارکیٹ میں سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے۔

نوجوان شوقینوں کی بڑی تعداد میں موجودگی مملکت کے ثقافتی اور فنکارانہ منظر نامے کے لیے ایک تابناک مستقبل کی مزید نشاندہی کرتی ہے۔

چونکہ ملک فنونِ لطیفہ میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے تو اس افتتاحی نیلامی سے مستقبل میں اعلیٰ سطح کی فروخت اور فنکارانہ تعاون کا ایک سلسلہ شروع کرنے میں مدد ملی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں