سعودی عرب میں 22 فروری کو یوم تاسیس منایا گیا۔ یوم تاسیس کی خوشی میں بچے، لڑکیاں اور لڑکے ابتدائی زمانے سے ہی سکارف پہنتے آئے ہیں۔ یہ سعودی عرب کے خطوں کے درمیان ثقافتوں کی ہم آہنگی کی ایک علامت سمجھی جاتی ہے۔ اپنے اس قدیم ورثے کو مضبوطی سے پکڑنے کی کی خواہش کا اظہار مملکت کی تمام تقریبات میں مضبوطی سے موجود رہتا اور ثقافتی وابستگی کو بڑھاتا ہے۔ سکارف پر مبنی ملبوسات سعودی عرب کی 300 سال کی تاریخ کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔
یوم تاسیس پر مملکت کے علاقوں کے شہری ان تقریبات میں شامل ہوئے جن میں بہت سے ثقافتی، ورثے اور تفریحی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا تھا۔ لوگوں نے نے یادگاری تصاویر دیکھنے اور مختلف ذرائع ابلاغ پر حب الوطنی کے جملے دہرانے میں حصہ لیا۔ مملکت کا خوشحالی کی جانب گامزن سفر ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے تحت جاری ہے۔ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب مختلف شعبوں میں پے در پے ترقی، نمو اور کامیابیوں کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ مملکت کو اس وقت دنیا میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔
بائیس فروری کو سعودی عرب میں "یوم تاسیس" منایا گیا۔ اس دن مملکت کی تاریخی اور ثقافتی گہرائی کو یاد کیا گیا۔ پہلی سعودی ریاست، پھر دوسری سعودی ریاست اور پھر تیسری سعودی ریاست کے قیام سے لے کر تین صدیوں کا سفر طے کرکے جدید مملکت کی بنیاد شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن آل سعود نے رکھی تھی۔
1727 میں 22 فروری کو سعودی عرب کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس دن پہلی سعودی ریاست ’’ امَارَةُ الدِّرْعِيَّہ ‘‘ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ محمد بن سعود المقرن جو ابن سعود کے نام سے بھی معروف تھے اس ریاست کے امیر بنے۔ ان کے والد سعود بن محمد المقرن کے نام پر ہی ریاست کا نام سعودی عرب رکھا گیا۔