مراکش : پُر تعیش افطار کی ترویج پر سوشل میڈیا مشاہیر کے خلاف عوام کا غصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

مراکش میں سوشل میڈیا پر متاثر کن افراد (انفلوئنسر) تنازع پیدا کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ بعض افراد تو ایسے وڈیو کلپ جاری کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جو ان کو فائدہ پہنچانے کا تیز ذریعہ ہوں۔

رمضان کا ماہ مبارک بھی ایسے لوگوں کے لیے اپنی آمدنی کے ذریعے متنوع بنانے اور متعدد برانڈوں کے ساتھ اشتہارات کے معاہدوں کا حقیقی موقع بن کر رہ جاتا ہے۔

شہرت کی بھوک

مراکش کی خاتون انفلوئنسر "سناء" کی پوسٹ کی گئی ایک حالیہ وڈیو نے عوامی حلقوں میں وسیع پیمانے پر غصے کی لہر دوڑا دی۔ وڈیو میں اس سال رمضان کے پہلے روز افطار کے رواج کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا گیا۔ اس میں ملبوسات اور کمرے کی سجاوٹ سے لے کر افطار کی میز تک مختلف اور متعدد پکوان سمیت سب کچھ شامل تھا۔

اسی طرح "ملازم" کے ہاتھوں کھانے کی ڈشیں پیش کرنے کے طریقہ پر بعض افراد نے حیرت سے سوال کیا کہ "مراکش کے لوگ کب اپنے گھروں میں اس طرح افطار کرتے ہیں"۔

بعض افراد نے تبصرہ کیا کہ یہ متنازع خاتون انفلوئنسر شہرت کی بھوکی ہے جو ہر موقع پر اپنی خاطر سب کچھ کر گزرتی ہے۔ خاتون انفلوئنسر اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ اس طرح کا "دکھاوا" اس کے کھاتے میں محض منفی اثرات چھوڑتا ہے۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے صرف "سناء" کو ہی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ دیگر کئی نئے انفلوئنسروں اور معروف شخصیات پر بھی نکتہ چینی کی جو رمضان میں افطار کے موقع پر عجیب و غریب رسم و رواج متعارف کروا رہے ہیں۔ یہ سب عیش و عشرت اور تکلف سے بھرپور ہیں جب کہ رمضان کا با برکت مہینہ عبادت، تفکر اور غریبوں کے ساتھ ہمدردی کا مہینہ ہے۔

اس تنازع کے حوالے سے دار الحکومت رباط میں محمد الخامس یونیورسٹی کے سماجیات کے پروفیسر علی الشعبانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کی۔ ان کا کہنا ہے کہ "سوشل میڈٰیا اب ہر کسی کے استعمال میں آ گیا ہے اور وہ جو چاہے پھیلا رہا ہے جب کہ اکثر مراکشیوں کے لیے رمضان عبادت اور صلہ رحمی کا مہینہ ہے"۔

انھوں نے مزید کہا کہ "مراکش کے لوگ افطار کے دسترخوان دیکھنے کے عادی ہیں مگر وہ جن کا مقصد غریبوں اور محتاجوں کے لیے سہولت پیدا کرنا ہے۔ ان دسترخوانوں کا اہتمام افراد یا انجمنوں کی جانب سے علانیہ یا خاموشی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس طرح ضرورت مندوں اور مفلس افراد کو شرمندہ بھی نہیں ہونے دیا جاتا"۔

پروفیسر الشعبانی نے موجودہ انفلوئنسروں کی جانب سے رمضان کی مناسبت سے متعارف کرائی جانے والی سرگرمیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ مراکشی معاشرے کی ثقافت کی عکاسی نہیں کرتی ہیں۔ انھوں نے استفسار کیا کہ وہ کون سی وجوہات ہیں جو ان افراد کو ایسی چیزوں کی طرف مائل کرتی ہیں۔ آیا یہ محض اشتعال انگیزی کا ذریعہ ہیں یا پھر انھیں تجارتی مقاصد کے تحت رواج دیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر مراکشی حلقوں کی جانب سے کئی مہمیں چلائی جا رہی ہیں جن میں افطار کے دسترخوانوں کی تصاویر اور وڈیوز پوسٹ کرنے سے اجتناب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس مہم کا مقصد با برکت مہینے میں غریبوں ، محتاجوں اور مفلس افراد کے جذبات کو مجروح ہونے سے بچانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں