لبنان : امریکی نمائندے کا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے پر لبنانی حکومت سے تبالہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان کے حکام نے اتوار کے روز اطلاع دی ہے کہ امریکہ کے خصوصی نمائندہ برائے مشرق وسطیٰ نے بیروت میں حکام کے ساتھ مذاکرات میں اس امر پر زور دیا ہے کہ حزب اللہ کو جلد سے جلد غیر مسلح کیا جائے۔ تاکہ جنگ بندی معاہدے پر عمل ہو سکے۔

تاہم امریکی نائب نمائندہ اورٹاگس اتوار کے روز بیروت میں تھیں ، جہاں انہوں نے لبنانی وزیر معیشت عامر اور وزیر خزانہ یاسین جابر کے ساتھ ملاقات کی۔ علاوہ ازیں ان کی لبنانی مرکزی بینک کے سربراہ کریم سوید کے ساتھ بھی ملاقات رہی۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ادارے 'نیشنل نیوز ایجنسی' کے مطابق ان ملاقاتوں کے بارے میں لبنانی حکام نے نام ظاہر کیے بغیر کہا ہے کہ ان کی خواہش تھی کہ ہم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا کام تیز کریں اور سرحدوں کے دفاع کی ذمہ داری خالصتاً لبنانی فوج کے پاس رہے۔

امریکی نمائندے کا لبنان کا یہ دوسرا وزٹ ہے۔ جو انہوں نے لبنان پر وقفے وقفے سے ہونے والے اسرائیلی حملوں کے دوران کیا ہے۔

یاد رہے اسرائیل کی فوج ماہ نومبر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود جب چاہتی ہے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر لیتی ہے۔ اس پر دو روز قبل عرب لیگ نے بھی سخت احتجاج کیا ہے۔

اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے مطابق اپنی افواج کو ابھی جنوبی لبنان کے علاقے سے نکالنے میں بھی پس و پیش کا مظاہرہ کر رکھا ہے۔

امریکہ کی نمائندہ نے لبنان کے اس دورے کے بعد کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے نہ کوئی پریس کنفرنس کی ہے۔ نمائندہ نے لبنانی صدر جوزف عون، وزیراعظم نواف سلام سے بھی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کو ہفتہ کے روز مثبت بتایا گیا تھا۔

یاد رہے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر لبنان کے صدر اور وزیراعظم بار ہا آواز اٹھا چکے ہیں۔ حتیٰ کہ امریکہ و فرانس کے صدور کو بھی متوجہ کر چکے ہیں ۔ تاہم ابھی اسرائیل جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل کی طرف مائل نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں