یروشلم : مسیحیوں کی مقدس آگ کی تقریب کے حیران کن مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مسیحی یروشلم کے تاریخی گرجا گھر میں جمع ہو کر صدیوں پرانی آتشی تقریب کا اہتمام کر رہے ہیں۔ یہ روایتی تقریب ایسٹر کی تقریبات سے پہلے سپیلچر کے مقدس غاروں میں بنے گرجا گھر میں منعقد کی جاتی ہے۔

اس جگہ کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں حضرت عیسٰی علیہ السلام کو صلیب دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب اسی جگہ قدیمی آرتھو ڈاکس مسیحی موم بتیوں کی مدد سے دور دور تک آگ روشن کرتے ہیں۔ جسے وہ مقدس آگ قرار دیتے ہیں۔

یہ موم بتیاں جلانے کا آغاز تقریبا اندھیرے سے کیا جاتا ہے۔ گرجا گھر کا یونانی سرپرست مقدس ایڈیکول میں داخل ہوتا ہے وہ دو روشن موم بتیاں لے کر آگے آتا ہے۔ یوں اس کی جلائی گئی ایک موم بتی سے دوسری موم بتیاں جلائی جاتی ہیں اور پھر چاروں طرف ایک سے ایک موم بتی جلنے سے ہر طرف آگ کا منظر بن جاتا ہے۔ بعد ازاں خصوصی پروازوں کےذریعے یہ جلی ہوئی آگے دوسرے ملکوں میں منتقل کی جاتی ہے۔ تاکہ مسیحی آگ ہر طرف جل جائے۔

آرتھو ڈوکس مسیحیوں کو یہ خیال ہے کہ یہ آگ نما روشنی ایڈیکول کے اندر سے ایک معجزے کی صورت نکلتی ہے۔ یہ ایڈیکیول حضرت عیسیٰ کو صلیب دینے کی کوشش والی جگہ پر ہی بنایا گیا۔ تاہم قرون وسطیٰ کے آرتھوڈوکس اسے تصور کو نہیں مانتے تھے بلکہ اسے کارنیول کی ایک چالبازی

سمجھتے تھے۔ اب تقریبا 1200 سال سے یہ سلسلہ آتش ایک تقریباتی انداز میں جاری ہے۔

اس آتشیں تقریب کی وجہ سے ہمیشہ کسی نقصان دہ حادثے کا بھی خوف رہتا ہے۔ کیونکہ 1834 میں اس اندھیرے والے چرچ میں مقدس آگ سے بچنے کی کوشش میں ایک خوفناک بھگدڑ مچ گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق 400 مسیحی مارے گئے تھے۔

مقدس آگ کے شعلوں میں جھلس کر مرنے سے اس وقت کے حکمران کو اس کے محافظوں نے تلواریں سونت کر مسیحی ہجوم کے درمیان اور آگ سے مشکل سے بچایا تھا۔ تاہم اس دوران بہت سے عقیدت مند مسیحی پاؤں تلے کچلے گئے تھے۔ بعض اموات دم گھٹنے سے بھی ہوئی تھیں۔

اسرائیلی فوج نے اس وجہ کو بنیاد بناتے ہوئے اس سال اس قدیمی آتشیں تقریب کے شرکاء کو کم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ اس پر گرجا گھر کے رہنماؤں نے سخت احتجاج کیا ہے کہ یہ مذہبی معاملات میں اسرائیلی مداخلت ہے۔

تاہم ہفتے کے روز اسرائیلی فوج کی بھاری نفری کے باوجود ہزاروں مسیحیوں کو فوجی چوکیوں سے گزرنے دیا گیا ہے۔ اس دوران اسرائیلی سیکیورٹی فورسز اور مسیحی عورتوں کے درمیان جھڑپی بھی سامنے آئیں۔

اس موقع پر مقدس سیپلچر کے اہم ذمہ دار کا کہنا تھا اسرائیلی پولیس کی نفری اور سیکیورٹی اہلکار مسیحی زائرین سے بھی زیادہ میں تعینات کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں