اسرائیلی فوج کے اعلان کے مطابق یمن سے اسرائیل پر ایک میزائل داغا گیا جس پر فضائی دفاعی نظام اس میزائل کو روکنے کے لیے متحرک ہو گیا۔ ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ میزائل داغے جانے کے بعد اسرائیل کے متعدد علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
ادھر امریکا کی یمن پر بم باری کا سلسلہ جاری ہے۔ العربیہ نیوز کے ذرائع کے مطابق، امریکی فضائی حملے میں شمالی مارب کے علاقے مجزر میں حوثی کمانڈر "ابو محسن الرصاص" ہلاک ہو گیا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ امریکی طیاروں نے مارب کے ضلع مدغل حوثیوں کی چھاؤنیوں اور ٹھکانوں پر 7 فضائی حملے کیے۔
اسی طرح جنوبی ضلع حریب میں بھی حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
صنعاء میں بھی حوثیوں کے تربیتی کیمپوں پر 5 فضائی حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں المحویت میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
الحدیدہ میں راس عیسیٰ کی تیل بردار بندرگاہ پر 4 حملے کیے گئے، جب کہ صعدہ کے سحار ضلع میں حوثیوں کے اسلحہ گودام پر بھی ایک حملہ کیا گیا جس میں ایک خاتون جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہو گیا۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ راس عیسیٰ کی اس تیل کی بندرگاہ پر حملہ کیا گیا جو حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔ یہ بندرگاہ ایندھن کی سپلائی کا مرکز تھی، جسے حوثی بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
فضائی کارروائی کے آغاز سے اب تک امریکی فوج نے ان حملوں کی تفصیلات محدود رکھی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس مہم کو سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں ہونے والے کسی بھی حملے سے کہیں زیادہ وسیع قرار دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان حملوں کا مقصد حوثیوں کو بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملے بند کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
-
یمن میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقام کے قریب دھماکے کی وجہ حوثی میزائل تھا: امریکہ
حقوق کے حامیوں کا شہری ہلاکتوں پر اظہارِ تشویش
بين الاقوامى -
امریکہ کے ساتھ آئندہ ملاقات اب تک کی مشکل ترین بات چیت ہو گی : ایرانی رکن پارلیمنٹ
امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی ماہرین کی سطح پر آئندہ ہفتے کے روز متوقع تیسری ...
بين الاقوامى -
یمن کے حوثی مہلک امریکی حملوں کو اپنے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنے کے خواہاں
ملکی آبادی مزید حملوں اور معاشی نقصانات کی متحمل نہیں ہو سکتی: ماہرین
بين الاقوامى