ریاض: خواتین کی تندرستی کے لیے مختص مقامات خواتین کو کیسے بااختیار بنا رہے ہیں؟
یہ خواتین کے لیے رازداری، تحفظ اور ذہنی راحت کا باعث ہیں
سعودی عرب کے دارلحکومت الریاض میں صرف خواتین کی تندرستی اور صحت کے لئے مختص متعدد مقامات قائم کرنے کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے والی کمیونٹیز فراہم کرنا ہے جہاں وہ رازداری، تحفظ اور راحت محسوس کریں۔
جم، سوئمنگ پول حتیٰ کہ بعض تھیم پارکس جیسے مقامات نے مخصوص دنوں میں خاص طور پر خواتین کے لیے محفوظ جگہیں مخصوص کی ہیں۔ یہ خواتین کے لیے آزادانہ لباس پہننا اور ایسی سرگرمیوں میں مشغول ہونا ممکن بناتا ہے جس سے کمیونٹی کا احساس فروغ پاتا ہے۔
ایسی ہی ایک جگہ سن سیٹس یوگا سٹوڈیو کا ایک پرسکون ماحول ہے جو صرف خواتین کے لیے وقف ہے۔ یہ مقامات صحت و تندرستی پر مرکوز کلاسز اور پروگراموں کا ایک سلسلہ پیش کرتا ہے اور اس میں ایک تفریحی مرکز بھی ہے جہاں خواتین پُراطمینان ماحول میں فکر سے آزاد ہو سکتی اور ایک دوسرے سے رابطہ قائم کر سکتی ہیں۔
مرکز کی مالک وطین التویجری نے معاصر عرب نیوز کو بتایا، "میرے یوگا کے شوق اور لوگوں کی مدد کرنے کی گہری خواہش سے سن سیٹس یوگا وجود میں آیا۔ میں نے یہ جگہ اس لیے کھولی کیونکہ میں یوگا کی انقلابی طاقت پر یقین رکھتی ہوں - نہ صرف جسم کے لیے، بلکہ دماغ اور روح کے لیے بھی۔"
انہوں نے مزید کہا، "سن سیٹس یوگا کے لیے میرا مقصد ایک خوش آئند، پرامن ماحول بنانا ہے جہاں افراد روزمرہ کی زندگی کے دباؤ سے نجات حاصل کر سکیں، خود سے دوبارہ ربط قائم کر سکیں اور جسمانی اور ذہنی طور پر نشوونما پائیں۔"
التویجری نے کہا، یہ بات "خاص طور پر اہم" ہے کہ ریاض میں ایسی جگہیں ہوں جو خصوصی طور پر خواتین کے لیے ہوں۔ انہوں نے کہا، "یہ ان کے خود کو دریافت کرنے اور ذاتی نشوونما کے سفر میں مدد کرنے کے لیے ہے جہاں وہ آزاد، مضبوط اور متأثر محسوس کر سکیں۔"
التویجری نے کہا کہ وہ "ایک ایسی کمیونٹی بنانا چاہتی تھیں جو لوگوں کی حمایت، حوصلہ افزائی اور پرورش کرے"۔ صرف خواتین کے لیے ایک اور نمایاں جگہ الریان ڈسٹرکٹ میں ریفارمر Pilates سٹوڈیو ہے۔ مالک نجد الھطلانی نے کہا، "میں 15 سال سے زیادہ عرصے سے ریفارمر پیلیٹس کی مشق کر رہی ہوں۔"
"اس سے مجھے اپنے جسم کے بارے میں خود آگاہی ملی ہے اور یہ کہ کس طرح چھوٹے عضلات بڑے عضلات کو سہارا دینے کے لیے حرکت کرتے ہیں۔ اس سے تمام ورزشوں کے حوالے سے میرا نکتۂ نظر مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ریاض کے مشرق میں ایک خالی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کے لیے سٹوڈیو کھولا۔
انہوں نے کہا، "خواتین والی جگہیں ہمیشہ سے ہمارے ثقافتی ورثے اور تجربے کا حصہ رہی ہیں۔ میرے خیال میں خواتین کے لیے ان محفوظ مقامات کی پیشکش جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ ان کی تندرستی کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جا سکے۔ ہم بحیثیت خواتین زندگی میں اسی طرح کے بہت سے تجربات کا اشتراک کر چکی ہیں جس کی بنا پر ایک ہی کمرے میں موجودگی سکون بخش ہوتی ہے جہاں ایک معاون توانائی ہو۔"
ریاض میں رہنے والی آسٹریلیا کی ایما شرلی نے کہا، "سعودی مملکت منتقل ہونے کے بعد سے میں نے خواتین کے لیے دوستانہ Pilates سٹوڈیو جانے کے فوائد کو واقعی محسوس کیا ہے۔ ریاض میں میرا Pilates سٹوڈیو Bdn ہے۔ میں وہاں چند مہینوں سے جا رہی ہوں۔"
انہوں نے مزید کہا، "نہ صرف یہ آرام دہ ہے بلکہ میں اپنی جلد اور جسم کے حوالے سے پراعتماد محسوس کرتی ہوں۔ میرے لیے خاص بات لوگوں سے رابطہ کاری کرنا ہے۔ مجھے یہاں بہت زیادہ ناقابلِ یقین خواتین ملی ہیں جو نہ صرف متأثر کن بلکہ ہم خیال ہیں۔"
-
سعودی عرب: 2024 میں سکیورٹی سروسز پر 99 فیصد اعتماد
92 فیصد سکور کے ساتھ سعودی عرب سکیورٹی اشاریوں میں جی 20 ملکوں میں سرفہرست
بين الاقوامى -
سعودی عرب نے ویژن 2030 کے تحت مملکت میں سب سے کم بیروزگاری کا ریکارڈ ہدف حاصل کرلیا
سعودی عرب نے ویژن 2030 کے نفاذ میں ایک قابل قدر کامیابی حاصل کی ہے، جس سے بے ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب: گذشتہ برس تفریحی سرگرمیوں نے 7.5 کروڑ سے زیادہ افراد کو متوجہ کیا
سعودی عرب میں 'ویژن 2030' کے حوالے سے 2024 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس ...
بين الاقوامى