ریاض: خواتین کی تندرستی کے لیے مختص مقامات خواتین کو کیسے بااختیار بنا رہے ہیں؟

یہ خواتین کے لیے رازداری، تحفظ اور ذہنی راحت کا باعث ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب کے دارلحکومت الریاض میں صرف خواتین کی تندرستی اور صحت کے لئے مختص متعدد مقامات قائم کرنے کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے والی کمیونٹیز فراہم کرنا ہے جہاں وہ رازداری، تحفظ اور راحت محسوس کریں۔

جم، سوئمنگ پول حتیٰ کہ بعض تھیم پارکس جیسے مقامات نے مخصوص دنوں میں خاص طور پر خواتین کے لیے محفوظ جگہیں مخصوص کی ہیں۔ یہ خواتین کے لیے آزادانہ لباس پہننا اور ایسی سرگرمیوں میں مشغول ہونا ممکن بناتا ہے جس سے کمیونٹی کا احساس فروغ پاتا ہے۔

"یوگا بائے سن سیٹ" کا پرسکون ماحول صرف خواتین کے لیے وقف ہے۔ (فراہم کردہ)
"یوگا بائے سن سیٹ" کا پرسکون ماحول صرف خواتین کے لیے وقف ہے۔ (فراہم کردہ)

ایسی ہی ایک جگہ سن سیٹس یوگا سٹوڈیو کا ایک پرسکون ماحول ہے جو صرف خواتین کے لیے وقف ہے۔ یہ مقامات صحت و تندرستی پر مرکوز کلاسز اور پروگراموں کا ایک سلسلہ پیش کرتا ہے اور اس میں ایک تفریحی مرکز بھی ہے جہاں خواتین پُراطمینان ماحول میں فکر سے آزاد ہو سکتی اور ایک دوسرے سے رابطہ قائم کر سکتی ہیں۔

مرکز کی مالک وطین التویجری نے معاصر عرب نیوز کو بتایا، "میرے یوگا کے شوق اور لوگوں کی مدد کرنے کی گہری خواہش سے سن سیٹس یوگا وجود میں آیا۔ میں نے یہ جگہ اس لیے کھولی کیونکہ میں یوگا کی انقلابی طاقت پر یقین رکھتی ہوں - نہ صرف جسم کے لیے، بلکہ دماغ اور روح کے لیے بھی۔"

انہوں نے مزید کہا، "سن سیٹس یوگا کے لیے میرا مقصد ایک خوش آئند، پرامن ماحول بنانا ہے جہاں افراد روزمرہ کی زندگی کے دباؤ سے نجات حاصل کر سکیں، خود سے دوبارہ ربط قائم کر سکیں اور جسمانی اور ذہنی طور پر نشوونما پائیں۔"

"یوگا توازن کے لیے ایک آفاقی ذریعہ ہے اور میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتی تھی کہ یہاں کی خواتین کو ایسی جگہ تک رسائی حاصل ہو جہاں وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی صحت اور تندرستی پر توجہ دے سکیں۔ (فراہم کردہ)
"یوگا توازن کے لیے ایک آفاقی ذریعہ ہے اور میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتی تھی کہ یہاں کی خواتین کو ایسی جگہ تک رسائی حاصل ہو جہاں وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی صحت اور تندرستی پر توجہ دے سکیں۔ (فراہم کردہ)

التویجری نے کہا، یہ بات "خاص طور پر اہم" ہے کہ ریاض میں ایسی جگہیں ہوں جو خصوصی طور پر خواتین کے لیے ہوں۔ انہوں نے کہا، "یہ ان کے خود کو دریافت کرنے اور ذاتی نشوونما کے سفر میں مدد کرنے کے لیے ہے جہاں وہ آزاد، مضبوط اور متأثر محسوس کر سکیں۔"

 سٹوڈیو  باقاعدہ، قبل از / بعد از پیدائش اور اپنی مرضی کے مطابق نجی تربیتی سیشنز کا ایک سلسلہ پیش کرتا ہے۔ (فراہم کردہ)
سٹوڈیو باقاعدہ، قبل از / بعد از پیدائش اور اپنی مرضی کے مطابق نجی تربیتی سیشنز کا ایک سلسلہ پیش کرتا ہے۔ (فراہم کردہ)

التویجری نے کہا کہ وہ "ایک ایسی کمیونٹی بنانا چاہتی تھیں جو لوگوں کی حمایت، حوصلہ افزائی اور پرورش کرے"۔ صرف خواتین کے لیے ایک اور نمایاں جگہ الریان ڈسٹرکٹ میں ریفارمر Pilates سٹوڈیو ہے۔ مالک نجد الھطلانی نے کہا، "میں 15 سال سے زیادہ عرصے سے ریفارمر پیلیٹس کی مشق کر رہی ہوں۔"

خواتین کے لیے ایک اور نمایاں جگہ ایک Pilates سٹوڈیو "Bdn" ہے جو خاص طور پر خواتین کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ (فراہم کردہ)
خواتین کے لیے ایک اور نمایاں جگہ ایک Pilates سٹوڈیو "Bdn" ہے جو خاص طور پر خواتین کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ (فراہم کردہ)

"اس سے مجھے اپنے جسم کے بارے میں خود آگاہی ملی ہے اور یہ کہ کس طرح چھوٹے عضلات بڑے عضلات کو سہارا دینے کے لیے حرکت کرتے ہیں۔ اس سے تمام ورزشوں کے حوالے سے میرا نکتۂ نظر مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ریاض کے مشرق میں ایک خالی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کے لیے سٹوڈیو کھولا۔

انہوں نے کہا، "خواتین والی جگہیں ہمیشہ سے ہمارے ثقافتی ورثے اور تجربے کا حصہ رہی ہیں۔ میرے خیال میں خواتین کے لیے ان محفوظ مقامات کی پیشکش جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ ان کی تندرستی کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جا سکے۔ ہم بحیثیت خواتین زندگی میں اسی طرح کے بہت سے تجربات کا اشتراک کر چکی ہیں جس کی بنا پر ایک ہی کمرے میں موجودگی سکون بخش ہوتی ہے جہاں ایک معاون توانائی ہو۔"

ریاض میں رہنے والی آسٹریلیا کی ایما شرلی نے کہا، "سعودی مملکت منتقل ہونے کے بعد سے میں نے خواتین کے لیے دوستانہ Pilates سٹوڈیو جانے کے فوائد کو واقعی محسوس کیا ہے۔ ریاض میں میرا Pilates سٹوڈیو Bdn ہے۔ میں وہاں چند مہینوں سے جا رہی ہوں۔"

انہوں نے مزید کہا، "نہ صرف یہ آرام دہ ہے بلکہ میں اپنی جلد اور جسم کے حوالے سے پراعتماد محسوس کرتی ہوں۔ میرے لیے خاص بات لوگوں سے رابطہ کاری کرنا ہے۔ مجھے یہاں بہت زیادہ ناقابلِ یقین خواتین ملی ہیں جو نہ صرف متأثر کن بلکہ ہم خیال ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں