اسرائیلی فوج کی جنوبی بیروت میں عمارت پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل نے لبنان کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر جنوبی بیروت کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔ اس بمباری سے محض ایک گھنٹہ قبل ہی اسرائیل نے جنوبی بیروت کے شہریوں کو اپنے گھروں اور علاقے سے نکل جانے کی دھمکی دی تھی۔

اطلاعات کے مطابق جنوبی بیروت کے پڑوس کے رہائشیوں کو اس سے کچھ ہی دیر پہلے انتباہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے گھروں اور علاقے کو چھوڑ کر کہیں اور نقل مکانی کر جائیں۔ اس نوعیت کے انخلا کی دھمکی اسرائیل فوج نے اہل بیروت کو تقریباً ایک ماہ کے وقفے کے بعد دی ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس کا نشانہ حزب اللہ کے لوگ تھے، جن کے لیے اس نے دو طرفہ جنگ بندی ایک بار پھر خلاف ورزی کی جو پہلے ہی اسرائیل کی وجہ سے کافی کمزور اور مشکلات میں گھری جنگ بندی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان کے 'ایکس' پر جاری کیے گئے بیان کے مطابق جنوبی بیروت میں کئی عمارتوں کے مکینوں کو علاقے سے نکل جانے اور اپنے گھر بار چھوڑ جانے کے لیے کہا گیا تھا۔ ان کو آگاہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے علاقے سے کم از کم 300 میٹر دور ہو جائیں۔ تاکہ اسرائیلی حملے کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں دونوں اطراف سے فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔ ممکن ہے کہ علاقے کے لوگوں کو علاقہ چھوڑنے کے لیے یہ فائرنگ ایک انتباہ کے طور پر کی گئی ہو کہ وہ خطرے والے علاقے سے دور چلے جائیں۔ اس کراس فائرنگ کے دوران سڑکوں پر ٹریفک معطل ہو کر رہ گئی۔ کیونکہ بہت سے لوگ علاقے سے نکلنے کی کوشش کے لیے سڑکوں پر رش کر رہے تھے۔

اسی ماہ چند روز پہلے اسرائیل کی طرف سے ایک بار کی گئی بمباری کے نتیجے میں حزب اللہ کے ایک ذمہ دار سمیت چار افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ یہ بمباری بھی جنوبی لبنان میں کی گئی تھی۔ یہ علاقہ حزب اللہ کے کمانڈ کا علاقہ ہے۔ جبکہ اس علاقے میں اس سے 5 روز پہلے بھی اسرائیل نے بمباری کی تھی۔

ان بمباریوں کے واقعات نے اس جنگ بندی معاہدے پر مزید سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جو امیرکہ و فرانس کی مدد سے 27 نومبر کو عمل میں آیا تھا۔ جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل پورے دھڑلے کے ساتھ خلاف ورزیاں کر رہا ہے مگر اس کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر آواز یا کوئی قوت موجود نہیں ہے۔

بیروت پر اس سے پہلے ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کشیدگی بڑھی تھی۔ جبکہ امریکہ کے ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں پر حملوں میں تسلسل آگیا۔ تاکہ انہیں بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے سے روکا جا سکے جو ابھی ممکن نہیں ہو سکا۔

تاہم حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل پر حالیہ مہینوں میں کیے گئے راکٹ حملوں کے ساتھ اپنے کسی بھی طرح کے تعلق کی تردید کی جاتی ہے۔ اگرچہ اسی مہینے میں لبنانی حکومت نے حزب اللہ سمیت حماس کے بعض اہلکاروں کو راکٹ حملوں کے شبہ میں گرفتار بھی کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں