امدادی کارکنوں کو اسرائیلی حراست میں بدسلوکی کا سامنا رہا : انروا سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ادارے 'انروا' نے کہا ہے کہ غزہ میں 50 سے زائد امدادی کارکنوں کو اسرائیلی حراست میں بدسلوکی کا سامنا رہا۔ نیز اسرائیلی فوج نے انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا ۔

'انروا' کے سربراہ فلپ لازارینی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا 'انروا کے 50 سے زائد کارکنان کو اسرائیلی فوج نے اکتوبر 2023 کے بعد حراست میں لیا۔ ان کارکنوں میں اساتذہ، ڈاکٹر اور سماجی کارکن شامل ہیں۔ ان کارکنوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا اور انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔'

اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے ایک کارکن کا حوالہ دیتے ہوئے فلپ لازارینی نے لکھا کہ اس نے کہا 'میں اس ڈراؤنے خواب کے خاتمے کے لیے موت کی خواہش کرتا تھا۔ کیونکہ میں ڈراؤنے خواب میں جی رہا تھا۔ ' 'انروا' کارکن کو اسرائیلی حراست میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ بالآخر اسے رہا کر دیا گیا۔

'انروا' سربراہ نے مزید لکھا 'امدادی کارکنوں کو جبری طور پر اعتراف کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔ یہ اشتعال انگیزی سے کم نہیں ہے۔'

اسرائیلی فوج کی طرف سے اس امر پر کسی قسم کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف میں یہ پہلا موقع ہے کہ تقریباً 2 ماہ سے جاری غزہ کی ناکہ بندی زیر سماعت آرہی ہے۔ جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کے مختلف ادارے، بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی امدادی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے لیے متحرک گروپ خبردار کر رہے ہیں کہ تقریباً 2 ماہ کو چھونے والی اسرئیلی ناکہ بندی غزہ میں بھوک و موت لانے کا باعث بن رہی ہے۔

غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف درجنوں اقوام اور بین الاقوامی تنظیموں کو سننے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاکہ اس پر اپنی سفارش کے انداز کا حکم جاری کر سکے اور اسرائیل کو فلسطینیوں کے حوالے سے اس کی ذمہ داریاں یاد دلا سکے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے کہا 'بین الاقوامی عدالت انصاف میں اس کیس کا زیر سماعت آنا اسرائیل کے خلاف ایک منظم ناانصافی ، ظلم اور غیرقانونی اقدام ہے۔'

اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا 'عدالتی کٹہرے میں اسرائیل کو نہیں لانا چاہیے بلکہ اقوام متحدہ اور اس کے ادارے 'انروا' کو عدالتی کٹہرے میں لانا چاہیے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں