دبئی میں بھارتی نژاد ارب پتی تاجر ابو صباح کو منی لانڈرنگ کے الزام میں جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

دبئی میں مقیم ایک بھارتی ارب پتی کاروباری شخصیت ان 30 افراد میں شامل ہیں جنہیں منی لانڈرنگ کے الزام میں جیل اور جرمانے کی سزا اور ملک بدری کا حکم دیا گیا ہے۔

عربی زبان کے البیان اور امارات الیوم سمیت متحدہ عرب امارات کے کم از کم دو روزناموں نے جمعے کے روز بلویندر سنگھ ساہنی جنہیں ابو صباح بھی کہا جاتا ہے، کی سزا کی اطلاع دی۔

دبئی کی عدالت نے 136,000 ڈالر (500,000 اماراتی درہم) جرمانہ اور پانچ سال قید کی سزا سنائی جس کے بعد مبینہ طور پر "منظم مجرمانہ گروہ" میں شامل 20 افراد کو متحدہ عرب امارات سے ملک بدر کر دیا جائے گا۔

یہ سزا ساہنی کے بیٹے پر بھی نافذ ہوتی ہے۔ 40 ملین ڈالر (150 ملین اماراتی درہم) کے فنڈز کے علاوہ فون سمیت کچھ سامان ضبط کر لیا گیا۔

رپورٹ کردہ جرم میں ملوث 10 افراد کے ایک اور گروپ کو 54,450 ڈالر (200,000 اماراتی درہم) جرمانہ، ایک سال قید اور اس کے بعد ملک بدری کی سزا سنائی گئی ہے۔ گروپ سے منسلک تین کمپنیوں پر 1.3 ملین ڈالر (5 ملین امارارتی درہم) جرمانہ عائد کیا گیا۔

مقدمے کا انکشاف

اطلاعات کے مطابق گذشتہ سال بر دبئی پولیس سٹیشن میں رپورٹ کے بعد ارب پتی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

تحقیقات کے بعد کیس 18 دسمبر 2024 کو پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کیا گیا۔

پہلا عدالتی سیشن نو جنوری 2025 کو ہوا تھا۔ کیس میں منی لانڈرنگ کی ایک پیچیدہ کارروائی کا معمہ حل ہوا جس میں غیر فعال اور جعلی کمپنیوں اور غیر قانونی لین دین کا استعمال کیا گیا۔

بعض مدعا علیہان کی غیر حاضری میں مقدمہ چلایا گیا۔ ان کے زیرِ قبضہ اثاثے ضبط کر لیے گئے۔

ساہنی ایک پراپرٹی مینجمنٹ کمپنی کے بانی ہیں اور اپنے شاہانہ طرزِ زندگی کے لیے مشہور ہیں۔

وہ 2016 میں اپنی ایک نہایت مہنگی اور پرتعیش گاڑی کے لیے تقریباً نو ملین ڈالر (33 ملین) میں واحد ہندسے والی لائسنس پلیٹ خریدنے پر سرخیوں کی زینت بن گئے۔

مقامی اطلاعات کے مطابق مدعا علیہان فیصلے کے خلاف مزید اپیل کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں