حوثیوں کے خلاف کارروائیوں کا اصل ہدف تہران تھا : امریکی حکام کی العربیہ سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے ساتھ کہ حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی ختم ہو چکی ہے، مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس اعلان کے بعد "العربیہ" اور "الحدث" نے امریکی عہدے داران کی آراء کا جائزہ لیا تو اس میں تضاد سامنے آیا۔ کچھ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس حوثیوں کو پہنچنے والے نقصان کا واضح اندازہ نہیں ہے، جب کہ دوسرے دعویٰ کرتے ہیں کہ حوثیوں کی 80 فی صد میزائل طاقت تباہ ہو چکی ہے، ان کے ڈرون اور میزائل کارخانے، کمانڈ سینٹرز، اور ریڈار سسٹمز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اس تضاد کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکی مرکزی کمان نے ابھی تک کوئی تفصیلی رپورٹ جاری نہیں کی ہے۔ اس حوالے سے فقط ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ حوثی جنگجو اور قائدین مارے گئے ہیں اور ایک ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، میزائل صلاحیت کی تباہی نے حوثیوں کو ایران کا ایک "کٹا ہوا بازو" بنا دیا ہے، جیسا کہ حزب اللہ یا حماس کے ساتھ ہو چکا ہے۔ اب حوثی شاید ایک مقامی عسکری گروہ بن کر رہ جائیں جو علاقائی حکومت تو کر سکتا ہے مگر بین الاقوامی سطح پر خطرہ نہیں بن سکتا۔

کئی فریقوں کے لیے اچھی خبر

امریکی کارروائی کے اختتام سے سب سے پہلا فائدہ امریکی فوجیوں کو ہوگا جو اب جلد وطن واپس آ سکیں گے۔ بالخصوص وہ فوجی جو کی مہینوں سے جنگی بحری بیڑے "ٹرومین" پر تعینات تھے۔ یہ اقدام امریکی وزارتِ دفاع کے لیے بھی اہم ہے، کیوں کہ اس آپریشن سے بھاری مالی بوجھ پڑا ہے، جو اندازے کے مطابق ایک ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔

اقتصادی طور پر بھی یہ فیصلہ مثبت ہے، کیوں کہ بحیرہ احمر میں خطرہ کم ہونے سے بحری جہازوں کو لمبا راستہ اختیار نہیں کرنا پڑے گا اور نہ ہی انھیں مہنگے انشورنس معاہدے کرنے ہوں گے۔ مصر بھی اس سے مستفید ہو گا کیوں کہ نہر سوئز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد دوبارہ معمول پر آ جائے گی اور آمدن میں اضافہ ہو گا۔

اصل ہدف : ایران

اگرچہ بظاہر یہ کارروائی حوثیوں کے خلاف تھی، لیکن امریکی حکام کے مطابق اصل نشانہ ایران تھا۔ امریکی وزیرِ دفاع کے ایک افشا ہو جانے والے پیغام میں یہ بات سامنے آئی کہ "ہمیں دو باتوں پر توجہ دینی ہے : نمبر ایک بائیڈن کی ناکامی اور نمبر دو ایران کی حوثیوں کو مالی معاونت.

کچھ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اقتصادی دباؤ اور اسٹاک مارکیٹ کی خراب صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لیے بھی کیا گیا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اس نے طاقت کا استعمال کر کے نہ صرف فوجی کامیابی حاصل کی بلکہ ایران کے لیے ایک واضح پیغام بھیجا۔ ایران، جو بارہا مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے، اب ممکنہ طور پر سخت امریکی موقف کا سامنا کرے گا۔ آنے والے دن امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، اور دونوں فریق کسی معاہدے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں