امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں قید مزید تین قیدی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 21 دیگر اب بھی زندہ ہیں۔
منگل کو وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران بات کرتے ہوئے ریپبلکن رہنما نے کہا کہ "ان 59 افراد میں سے جنہیں قیدی بنایا گیا تھا 21 اب بھی زندہ ہیں جبکہ تین کےہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ قیدیوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک ہولناک صورت حال ہے"۔
اس سے قبل قابض اسرائیلی فوج کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے غیر معمولی حملے کے دوران کل 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا، جن میں سے 58 اب بھی غزہ میں موجود ہیں، جبکہ ان میں سے 34 جان سے جا چکے ہیں۔
اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2014ء میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دوران مارا گیا ایک اسرائیلی فوجی تاحال حماس کے قبضے میں ہے اور اس کی لاش ابھی تک اسرائیل کو نہیں ملی۔
ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا کہ ان کی آئندہ مشرق وسطیٰ کی سفارتی مہم، جو 13 سے 16 مئی کے درمیان سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل ہو گی جس میں اسرائیل شامل نہیں ہو گا۔
صدر کے اس بیان سے ایک طرف تو یرغمال بنائے گئے افراد کے اہل خانہ کو نئی امید ملی ہے، وہیں یہ اعتراف بھی واضح ہو گیا ہے کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ان قیدیوں کی زندگی کو مسلسل خطرہ لاحق ہے۔
-
نیا غزہ منصوبہ قیدیوں کو 'قربان' کر دینے کے مترادف ہے: اسرائیلی مہم کار گروپ
ایک اسرائیلی مہم کار گروپ نے پیر کو کہا کہ غزہ میں توسیعی فوجی کارروائیوں کے لیے ...
مشرق وسطی -
حماس کی شکست 59 قیدیوں کی رہائی سے زیادہ اہم ہے: نیتن یاھو
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس کو شکست دینا 59 قیدیوں کی ...
مشرق وسطی -
غزہ مذاکرات: قیدیوں کو جلد رہا کیا جائے گا، تین محفوظ راہداریاں قائم ہوں گی
اگرچہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے قاہرہ میں ...
مشرق وسطی