احمد الشرع امریکی صدر سے ملاقات کے خواہش مند ہیں : سربراہ شامی ہنگامی امداد تنظیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

رواں ماہ کے آغاز میں امریکی حکام اور شامی ہنگامی امداد کی تنظیم (SETF) کے سربراہ معاذ مصطفیٰ نے شامی صدر احمد الشرع سے ایک طویل ملاقات کی جو تین گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔ اس ملاقات کے دوران الشرع نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کئی اہم پیغامات دیے۔ ٹرمپ آئندہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کے دورے پر مختلف ممالک کا سفر کرنے والے ہیں۔

معاذ مصطفیٰ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ صدر الشرع، صدر ٹرمپ سے ملاقات کے خواہش مند ہیں تاکہ وہ خطے میں امن قائم کرنے اور شام کی تعمیرِ نو سے متعلق اپنی سوچ کا ان کے سامنے اظہار کر سکیں۔ مصطفیٰ نے کہا کہ سعودی عرب کی سرپرستی میں ٹرمپ اور الشرع کی ملاقات ایک "سنہری موقع" ہو سکتی ہے جو خطے میں امن لانے اور ایران کے اثر کو کمزور کرنے کا ذریعہ بنے گی۔

مصطفیٰ کے مطابق الشرع نے اس ملاقات کے دوران سعودی عرب کے دورے اور صدر ٹرمپ سے با ضابطہ ملاقات کے لیے آمادگی کا اظہار کیا، تاکہ ان اہم امور پر براہ راست گفتگو ہو سکے۔

شامی تیل

اس ملاقات میں معاشی معاملات اور شام کی تعمیرِ نو کا موضوع بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر امریکی کاروباری شخصیت اور توانائی کے ماہر جوناتھن باسس بھی موجود تھے، جو واشنگٹن کے فیصلہ ساز حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

صدر الشرع نے امریکہ کے ساتھ توانائی کے شعبے میں شراکت داری میں گہری دل چسپی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی فریق کو شام کے تیل و گیس کے ذخائر چلانے کی تجویز پر ایک مفید تجزیاتی رپورٹ تیار کرنے کے ارادے سے بھی آگاہ کیا۔

شام کے صدر احمد الشارع 7 مئی کو پیرس کے دورے کے دوران (آرکائیو - اے ایف پی)
شام کے صدر احمد الشارع 7 مئی کو پیرس کے دورے کے دوران (آرکائیو - اے ایف پی)

ایران کی واپسی کی مخالفت

مزید برآں صدر الشرع نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ شام میں ایران کی دوبارہ موجودگی کے سخت مخالف ہیں اور امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رکھیں گے۔ اس میں داعش کے قیدیوں سے نمٹنے اور جبری طور پر بے دخل خاندانوں کی واپسی بھی شامل ہے۔
جوناتھن باسس نے بھی صدر الشرع کو آگاہ کیا کہ صدر ٹرمپ شام کے قدرتی وسائل کے انتظام میں دل چسپی رکھتے ہیں اور چین کو اس شعبے سے دور رکھنے کے خواہش مند ہیں۔

شام-امریکہ شراکت

مصطفیٰ کے مطابق باسس نے قدرتی وسائل میں شام اور امریکہ کے درمیان ایک مشترکہ عالمی کمپنی کے قیام کی تجویز دی جو بین الاقوامی سطح پر کام کرے اور امریکی اسٹاک مارکیٹ میں رجسٹر ہو۔

دمشق کا منظر
دمشق کا منظر

جہاں تک امریکی پابندیوں کا تعلق ہے، معاذ مصطفیٰ نے کہا کہ یہ پابندیاں سابق صدر بشار الاسد کے اقدامات کے باعث لگائی گئی تھیں، اب جب کہ شام کی قیادت بدل چکی ہے تو شامی عوام کو ان پابندیوں سے نجات کا حق حاصل ہے۔

مزید یہ کہ صدر الشرع نے واضح کیا کہ شام ہمسایہ ممالک کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ہی کسی کے لیے خطرہ بنے گا۔ ان کا موجودہ ہدف صرف اور صرف تعمیرِ نو ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ شام کے لیے مخصوص رعائتوں کا ایک واضح نظام موجود ہے اور اب وہ شامی حکام کی جانب سے با ضابطہ رد عمل کی منتظر ہے۔

یاد رہے کہ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، شامی حکومت نے امریکی مطالبات میں سے کئی پر مثبت ردعمل دیا ہے، تاہم بعض نکات مزید غور و فکر اور گفت و شنید کا تقاضا کرتے ہیں۔

ورلڈ بینک کے تخمینے کے مطابق، چودہ سالہ خانہ جنگی سے تباہ حال شام کی ازسرِنو تعمیر پر 250 ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آئے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں