اقوامِ متحدہ کی عارضی امن فورس برائے لبنان (یونيفیل) نے بدھ کے روز ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں اس کے ایک امن مشن کے قریب واقع علاقے کو اسرائیل کی جانب سے براہِ راست فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
یونيفیل کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ واقعہ منگل کے روز پیش آیا جو کہ اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے درمیان نومبر 2024ء میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد پہلا ایسا حملہ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ "یونيفیل کو اسرائیلی فوج کے حالیہ معاندانہ رویے پر شدید تشویش ہے"۔
مزید کہا گیا کہ "یہ حملہ جنوبی لبنان کے علاقے کفر شعبا کے قریب واقع یونيفیل کی ایک چوکی کے آس پاس کیا گیا، جو کہ بلیو لائن کے قریب واقع ہے۔ یہ واقعہ یونيفیل کے عملے اور ان کے املاک کو براہ راست خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے"۔
جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی
واضح رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نومبر 2024ء میں ایک امریکی-فرانسیسی ثالثی کے تحت جنگ بندی طے پائی تھی، جس کا مقصد جنوبی لبنان میں ایک سال سے زائد جاری کشیدگی کو ختم کرنا تھا۔
اس معاہدے کے تحت فریقین کو ایک دوسرے کے خلاف تمام معاندانہ کارروائیاں بند کرنا تھیں۔ اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان سے مکمل انخلا کرنا تھا، جبکہ حزب اللہ کو دریائے لیتانی کے جنوب میں واقع علاقوں سے نکل کر اپنی عسکری تنصیبات ختم کرنا تھیں۔ ان علاقوں میں لبنانی فوج اور اقوام متحدہ کی فورس (یونيفیل) کو اپنی موجودگی مضبوط بنانا تھی۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل آج بھی جنوبی لبنان کی سرحدی پٹی میں پانچ کلیدی چوکیوں پر قابض ہے اور مسلسل ان علاقوں میں قیام کے اشارے دے رہا ہے، جس سے جنگ بندی معاہدے کی روح بری طرح متاثر ہوئی ہے۔