غزہ میں اسرائیلی جنگ رکوانے کے لیے ثالثی میں کردار ادا کرنے والے ملک قطر میں ایک بار پھر جنگ بندی کی کوشش شروع کی گئی ہے۔ یہ جنگ بندی کوششیں ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہیں جب پچھلے صرف 72 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج نے بمباری کر کے سینکڑوں فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے اور غزہ میں مزید فوج کو منتقل کر دیا ہے۔
وزارت صحت کی اطلاع کے مطابق مسلسل تیسرے روز بھی بمباری کی شدت جاری رہی۔ اس دوران 146 فلسطینیوں کو اسرائیلی بمباری میں قتل کیا گیا ہے۔ بمباری میں شدت کا یہ سلسلہ 18 مارچ سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے از سر نو چھیڑی گئی اسرائیلی جنگ کے بعد جاری ہے۔
اس جنگ کے نئے مرحلے میں بھی ہزاروں فلسطینی اب تک جاں بحق اور سینکڑوں گھر تباہ کیے جا چکے ہیں۔ نیز پناہ گزین کیمپوں اور سکولوں کی عمارات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان جاں بحق ہونے والوں میں بڑی تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔
حماس کے قائدین نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو بتایا کہ وفد مذاکرات کے ایک نئے دور کے لیے ہفتہ کے روز سے دوحا میں بات چیت شروع کر چکا ہے۔ جس میں تمام امور بغیر کسی پیشگی شرط کے زیر بحث آرہے ہیں۔
حماس کے وفد نے اپنے مذاکرات میں پیش کردہ مؤقف کا خاکہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے مکمل خاتمے کی ضرورت ہے، قیدوں کی رہائی ضروری ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسرائیل کی فوج کا غزہ سے انخلاء اور انسانی بنیادوں پر امداد و خوراک کی غزہ میں تقسیم ہمارے بنیادی امور ہیں جن پر ہم بات کر رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے دوحا میں دوبارہ شروع کر دیے گئے ہیں اور اسرائیل نے یہ قبول کیے بغیر مذاکرات شروع کیے ہیں کہ اسرائیل پہلے جنگ بندی کرے اور ناکہ بندی ختم کرے۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ مسلسل شدید بمباری کر رہی ہے اور اپنی مزید فوجی نفری بھی غزہ میں موبلائز کر رہی ہے تاکہ غزہ پر اپنا کنٹرول کر سکے اور غزہ کے مختلف علاقوں میں اپنی عملداری ممکن بنا سکے۔
غزہ کے وزارت صحت سے متعلق حکام کا کہنا ہے ہفتہ کے روز جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں میں شمالی غزہ کے علاقوں بیت لاھیہ اور جبالیہ میں قائم پناہ گزین کیمپوں کے لوگ تھے۔
اسی طرح غزہ کے جنوبی قصبے خان یونس میں بھی اسرائیلی بمباری و ہلاکتوں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ پچھلے تین دنوں میں 146 افراد جاں بحق اور 459 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے لوگوں کو اپنے گھروں اور علاقوں سے نکل جانے کا کہا ہے۔
حماس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج نے مسلسل بمباری کی ایک منظم مہم شروع کر رکھی ہے۔ انہوں نے عرب رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ فلسطینیوں کے حق میں عملی اقدامات کریں تاکہ اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہو سکے۔
18 مارچ جب سے غزہ میں اسرائیل نے از سر نو جنگ کا آغاز کیا ہے اس سے تقریباً 3 ہفتے پہلے اسرائیلی فوج نے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کر کے خوراک، پانی و ادویات تک کی رسائی روک دی تھی جو اب تک رکی ہوئی ہے۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی یہ اب تک کی طویل ترین ناکہ بندی ہے۔
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی جن کا ملک غزہ میں امن قائم کرنے اور جنگ بندی کے لیے قطر کے ساتھ کوشاں ہے انہوں نے بھی اسرائیل کے اقدامات کو ظالمانہ قرار دیا اور کہا کہ وہ فلسطینیوں کا غزہ سے وجود مکمل ختم کرنا چاہتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کا غزہ میں اسرائیلی ناکہ بندیوں کے بعد کہنا ہے کہ غزہ میں قحط کا آغاز ہو چکا ہے کیونکہ پچھلے اڑھائی ماہ سے اسرائیل نے غزہ میں کھانے پینےکی اشیاء اور ادویات کی منتقلی جبراً روک رکھی ہے۔
ٹام فلیچر نے بھی اسی ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے کہ وہ فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ اسرائیل حماس پر الزام لگاتا ہے کہ فلسطینی اس لیے خوراک سے محروم ہیں کہ حماس غزہ میں منتقل ہونے والی خوراک اور باقی چیزوں کو ہائی جیک کر لیتا ہے۔ حماس اسرائیلی الزام کی تردید کرتا ہے۔
جمعہ کے روز امریکی صدر ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ غزہ میں بھوک سے پیدا ہونے والا بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ اس لیے غزہ میں خوراک کی ترسیل روکنے کی ضرورت ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 19 ماہ کی اسرائیلی جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے ہسپتالوں کو بطور خاص بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔ جس سے ہسپتالوں میں ادویات ختم ہو چکی ہیں۔
شمالی غزہ میں قائم انڈونیشیا ہسپتال کے سربراہ مروان السلطان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کہا ہے کہ اسرائیل کی حالیہ بمباری کے نتیجے میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ آدھی رات سے اب تک 58 فلسطینیوں کی لاشیں وصول کی ہیں۔ جبکہ ملبے کے نیچے بھی فلسطینی ہیں۔
-
فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں اپنی ذمے داریاں سنبھالنے کا اختیار دیا جانا چاہیے : محمود عباس
فلسطینی صدر محمود عباس نے زور دے کر کہا ہے کہ "حماس کو غزہ پر اپنی حکمرانی اور ...
مشرق وسطی -
بغداد: انتونیو گوتریس کی غزہ میں "مستقل جنگ بندی کی اپیل"
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں "مستقل جنگ بندی" کی اپیل کی ...
مشرق وسطی -
غزہ میں انسانی محاصرے کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ میں قرار داد پیش کریں گے: سپین
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک غزہ پر عائد اسرائیلی ...
مشرق وسطی