اسرائیل نے غزہ میں بچوں کی خوراک کی محدود سپلائی کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔ امدادی سامان کے ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی یہ اجازت دو مارچ سے جاری اسرائیلی ناکہ بندی کے بعد پہلی مرتبہ دی جا رہی ہے۔
اسرائیل نے پورے غزہ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے غزہ میں ایک نئی اور شدید تر جنگی جارحیت شروع کر دی ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ایڈن بار تال نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا 'اسرائیل بچوں کی خوراک سے متعلق ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دے رہا ہے۔ جبکہ آنے والے دنوں میں مزید ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔
ایڈن بار سے پوچھا گیا کہ کتنے ٹرک غزہ میں اب تک داخل ہو چکے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ صحیح تعداد کی جانچ کی ضرورت ہے۔ تاہم آنے والے دنوں میں غزہ میں داخل ہونے والے امدادی سامان کے ٹرکوں کی تعداد سامنے آئے گی۔
اقوام متحدہ کے ادارے غزہ میں خوراک، پانی، ایندھن اور ادویات کی شدید قلت سے خبردار کر رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا دو مارچ سے اسرائیل نے اس کے باوجود خوراک و ادویات کی ترسیل روک کر بیس لاکھ افراد کو بھوک اور قحط کے آگے ڈال دیا ہے کہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار میٹرک ٹن خوراک غزہ سے باہر بلکہ غزہ کی دہلیز پر رکھی ہے۔ جسے ناکہ بندی کھولنے کے بعد محض چند منٹوں میں غزہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کی طرف سے نو امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت پر اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے جزوی طور پر ناکہ بندی ختم کر کے ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی ہے۔ یہ 'سمندر میں ایک قطرہ' ڈالنے جیسا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ اسرائیلی حکام غزہ کی 11 ہفتوں کی ناکہ بندی کے بعد محدود پیمانے پر امدادی سامان کے غزہ میں داخلے کی اجازت دے رہے ہیں۔ کرم شالوم راہداری کے ذریعے امدادی سامان کے نو ٹرکوں کو داخلے کے لیے اسرائیلی فوج نے کلیئر کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا 'غزہ میں محدود مقدار میں امداد کی اجازت دی جا رہی ہے۔ جبکہ فلسطینیوں تک بلا روک ٹوک امدادی سامان کی رسائی کی ضرورت ہے جس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔'